Category: عالمی خبریں

اوسلو میں کشمیری اور سکھ ڈائسپورا کے بڑے احتجاج نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور بھارت میں ہندوتوا کے زیرِ سایہ مسلمانوں پر ہونے والے منظم ستم کو عالمی سطح پر ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔

مودی کے دورۂ ناروے پر کشمیری و سکھ تنظیموں نے نارویجن پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے بھارت میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید ردعمل دیا۔

شمالی وزیرستان کے شیوا میں آپریشن کے دوران 18 دہشت گرد ہلاک، سہولت کاروں کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی۔

خیبر پختونخوا کے عوام فتنہ الخوارج کے خلاف میدان میں آ گئے، مختلف اضلاع میں وال چاکنگ کے ذریعے نور ولی کو اسلام اور علماء کا قاتل قرار دیا گیا۔

خیبر پختونخوا میں بدامنی کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر عائد کی گئی ہے، ان کے مبہم بیانیے اور پولیس و سکیورٹی معاملات میں مبینہ غفلت پر تنقید کی گئی ہے۔

کسی بھی جمہوری معاشرے میں احتجاج کا حق بنیادی ہے، لیکن اس کی ایک قیمت ہوتی ہے جو ہمیشہ معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ ادا کرتا ہے۔ شٹر ڈاؤن اور ہڑتالوں سے کسی وزیر یا اشرافیہ کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ اس کی زد میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور، چھوٹا تاجر، تعلیمی اداروں سے دور ہوتا طالب علم اور ہسپتال پہنچنے کی کوشش میں بے بس مریض آتا ہے۔

اپنے بیان میں ٹرمپ نے ایران کے مستقبل سے متعلق بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران میں نئی قیادت “سمجھداری” کا مظاہرہ کرے تو ملک ایک بہتر اور خوشحال مستقبل حاصل کر سکتا ہے۔ ان کے اس بیان کو مبصرین ایران میں ممکنہ “رجیم چینج” کے اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

ٹرمپ نے مذاکراتی عمل کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ہم بات چیت کرنے جا رہے ہیں، اور اس مرحلے پر کوئی کھیل نہیں ہو رہا۔” انہوں نے شکوک و شبہات کو مسترد کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھیں گے۔

امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے شیڈول پر صورتحال واضح نہیں؛ عوامی تردید کے باوجود ایرانی وفد کی منگل کو اسلام آباد آمد متوقع، سفارتی ذرائع کا دعویٰ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کسی حتمی معاہدے کے لیے صدر ٹرمپ اسلام آباد جانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس صورت میں نائب صدر جے ڈی وینس کو پہلے امریکا واپس بلایا جا سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ایک اور وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ حالات میں تبدیلی آئی ہے اور اب جے ڈی وینس نہ صرف اسلام آباد جائیں گے بلکہ وہی امریکی وفد کی قیادت بھی کریں گے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق “صورتحال بدل گئی ہے”، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا گیا۔

ٹرمپ کے بیان کے مطابق امریکی وفد پاکستان پہنچ کر ایران سے متعلق مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائے گا۔ اگرچہ انہوں نے وفد کے ارکان یا مذاکرات کے مکمل ایجنڈے کی تفصیل نہیں دی، تاہم ان کے اعلان سے یہ اشارہ ملا ہے کہ اسلام آباد ایک مرتبہ پھر امریکا ایران رابطوں کے لیے مرکزی مقام بن رہا ہے۔

اگر امریکا ایران کا مقابلہ نہیں کر سکا تو اسے چین جیسے بڑے ملک سے الجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ روسی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکا اپنی طاقت کے حوالے سے مبالغہ آمیز تاثر پیش کرتا رہا ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی ثالثی کے ذریعے امریکا کی جانب سے نئی تجاویز موصول ہوئی ہیں، جن کا ایران جائزہ لے رہا ہے اور تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران تاحال امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اگلے مرحلے پر رضامند نہیں ہوا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

امریکہ اور ایران کے مابین جنگی خطرات ٹالنے اور مذاکرات کی میزبانی پر عالمی قیادت کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حکمت عملی کو خراجِ تحسین۔