اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدے کا مرکز بننے کو تیار؛ ایران جوہری افزودگی روکے گا جبکہ امریکہ پابندیاں ہٹا کر اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کرے گا۔
افغانستان میں طالبان کی نسلی اجارہ داری اور خواتین کے بنیادی حقوق کی پامالی نے ملک کو ایک نئے داخلی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے، جہاں بدخشاں سے پنجشیر تک مزاحمت کی نئی لہریں جنم لے رہی ہیں۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے میں امن، پاک ایران تعاون اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی علی الزیدی کو عراق کا وزیراعظم بننے پر مبارکباد؛ دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار۔
پاکستانی ہائی کمشنر عمران حیدر کی بنگلہ دیشی وزیر تعلیم سے ملاقات، جس میں اسکالرشپس، سائنسی علوم اور جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے سمیت تعلیمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
صدر آصف زرداری نے دورہ چین کے دوران صوبہ حنان کی قیادت سے ملاقات میں زرعی ٹیکنالوجی میں تعاون پر زور دیا اور چینی حکام کو سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ پر دورہ پاکستان کی دعوت دی۔
عباس عراقچی نے پاکستان کی جانب سے خطے میں قیامِ امن کے لیے کی جانے والی مخلصانہ کوششوں کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک قابلِ عمل فریم ورک پیش کر دیا ہے اور اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ سفارت کاری کے حوالے سے کتنا سنجیدہ ہے۔
دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خطے میں کسی بھی بڑے تنازع سے بچنے کے لیے تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ عسکری قیادت نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں استحکام اور امن کی ہر کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔