Category: قومی خبریں

نواز شریف نے ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کو صدر آزاد کشمیر کے لیے مسلم لیگ (ن) کا امیدوار نامزد کردیا، صدارتی انتخاب 24 ستمبر کو ہوگا۔

او آئی سی نے مکہ مکرمہ کی جانب حوثی ڈرون کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔

کوانٹم ویلی پاکستان کے تحت اسلام آباد میں اہم تقریب، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور صنعتی ترقی کے فروغ پر توجہ دی گئی۔

مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی، ڈرون حملے میں کالعدم بی ایل اے کے 7 مسلح افراد ہلاک ہوگئے۔

میرعلی زڑکی میں جھڑپوں کے دوران شہری گھر پر مارٹر گولے گرنے سے متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے۔

سیاسی جماعتوں کے لانگ مارچز کی کال کے بعد اسلام آباد میں سکیورٹی سخت، ڈی چوک سمیت اہم مقامات پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے۔

معصوم بچی کی عدم بازیابی اور صوبائی حکومت کی سیاسی ترجیحات نے خیبرپختونخوا انتظامیہ پر شدید عوامی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

علی وزیر کے خلاف مختلف اضلاع میں درج مقدمات پر قانونی مؤقف سامنے آیا ہے کہ ایف آئی آر تحقیقات کا ابتدائی مرحلہ ہے جبکہ حتمی فیصلہ شواہد کی بنیاد پر عدالتیں کریں گی۔

ہنگو، بنوں، کرک، ٹانک، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور خیبر میں پولیس اہلکار زیادہ تر حملوں کا نشانہ بنے۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں سڑک تعمیر کرنے والے مزدوروں سمیت کئی افراد جاں بحق، حکومتی رہنماؤں کی شدید مذمت۔

فتنہ الہندوستان کے نام نہاد وسائل کے تحفظ کے دعوے پر سوالات، تجارتی گاڑیوں پر حملوں اور لوٹ مار سے بلوچستان کی معیشت متاثر۔

بانی پی ٹی آئی کا پمز کے بجائے نجی اسپتال میں علاج کا مطالبہ دو نہیں ایک پاکستان کے نعرے پر سوالات اٹھا رہا ہے، جسے ناقدین اشرافیہ کلچر کی مثال قرار دے رہے ہیں۔

کالعدم بی ایل اے کی تازہ پروپیگنڈا ویڈیو اپنے کمزور ہوتے نیٹ ورک کو منظم پیش کرنے کی ناکام کوشش ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے گروہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔

اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں نے نجی ہسپتال سے علاج اور اہل خانہ سے رابطے کی اجازت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا، عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے پیرا وائز کمنٹس طلب کرلیے۔

سکیورٹی فورسز کے شدید دباؤ کے باعث فتنۃ الخوارج کے دہشت گرد زمینی گنجائش کھو چکے ہیں اور اب اپنی ناکامی چھپانے کے لیے مبالغہ آمیز دعوؤں اور جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لے رہے ہیں۔

ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف سخت ترین بیانات دینے والی پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) آج سیاسی مفادات کے تحت ایک ہی میز پر براجمان ہیں، جس نے اصولوں کی سیاست پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔