سکیورٹی ذرائع کے مطابق دو اعشاریہ چار ارب ڈالر کی خطیر رقم کا دعویٰ حقائق کے برعکس اور حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کی اصل لاگت اس سے کہیں کم ہے، جس کا حتمی تعین تکنیکی جانچ اور کھلی بولی کے بعد ہی ممکن ہو گا۔
جمی کمل نے خاتونِ اول کو مذاق میں متوقع بیوہ کہا تھا، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ شدید ناراض ہو گئے ہیں۔ اس بیان پر ایوانِ صدر کی جانب سے جمی کمل کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
حیدرآباد کے معاذ صداقت چونسٹھ رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے جبکہ عثمان خان نے پینتیس گیندوں پر چونسٹھ رنز کی اننگز کھیلی۔ صائم ایوب نے ناقابلِ شکست پندرہ رنز بنائے۔
آمد پر نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا۔
ذرائع کے مطابق عباس عراقچی اسلام آباد میں پاکستانی مصالحتی ٹیم سے اہم ملاقاتیں کریں گے، جس کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان 'اسلام آباد امن مذاکرات' کا دوسرا راؤنڈ شروع ہونے کے قوی امکانات ہیں۔
پاکستان کی کوششیں کسی ایک فریق کی جیت یا ہار کے لیے نہیں بلکہ مجموعی علاقائی استحکام کے لیے ہیں۔ ایسی صورتحال میں جب براہِ راست مذاکرات تعطل کا شکار ہوں، پاکستان کی موجودگی کشیدگی کو کم کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں مزید 3 ہفتوں کی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے اسے خطے میں پائیدار امن کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ایک نئے دور کا آغاز رواں ہفتے جمعہ تک ممکن ہے، جس سے خطے میں تناؤ کی کمی کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ تاہم، جب ان سے امریکہ کی جانب سے جنگ بندی میں 3 سے 5 دن کی توسیع کے حوالے سے سوال کیا گیا، تو انہوں نے کہا کہ تہران اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی اصل مسئلہ نہیں تھی، کیونکہ امریکا مذاکرات کے دوران اعتماد سازی کے لیے اسے عارضی طور پر ختم کرنے پر راضی تھا۔ اصل رکاوٹ تہران میں فیصلہ سازی کا سست عمل اور سپریم لیڈر تک پیغامات کی رسائی ہے
پاکستان کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی آباد کاروں کے دھاوے اور جھنڈا لہرانے کی شدید مذمت؛ دفترِ خارجہ نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر دیا۔