روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔
محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔
دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا بیان پاک افغان تعلقات میں نئی کشیدگی کا باعث بن گیا؛ پاکستان نے افغان میڈیا کے جارحانہ کردار کی تعریف کو 'پراکسی وار' کا اعتراف قرار دے دیا، ٹی ٹی پی اور افغان حکومت کے گٹھ جوڑ پر شدید تحفظات۔
وائرل ویڈیو میں مذکورہ شخص ننگرہار میں ایک سکیورٹی چوکی کے سامنے کھڑے ہو کر علاقے کی صورتحال دکھاتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ ویڈیو میں وہ افغانستان میں غربت، بے روزگاری اور عوامی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے طالبان حکومت کو ان حالات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔
افغانستان میں طالبان کی 'امارات' شرعی معیار پر پورا اترنے میں ناکام؛ ماہرینِ شریعت، عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے موجودہ نظام کو عوامی بیعت کے بجائے 'غاصبانہ قبضہ' قرار دے دیا۔
ملا عمر کے قریبی ساتھی اور سینئر طالبان رہنما ملا معتصم آغاجان کی گرفتاری نے طالبان قیادت میں اندرونی اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے اور امن کوششوں کے لیے رابطے بڑھانے کے الزام میں قندھار میں حراست میں لیا گیا۔
انجیل ضلع کے قریب ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کا تعلق زیادہ تر شیعہ برادری سے تھا۔ واقعے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ جنازوں میں شریک ہوئے، جہاں طالبان کی جانب سے عوامی احتجاج پر عائد پابندیوں کے باوجود ہجوم جمع ہوا۔
غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق حملہ 12 اپریل کی رات تقریباً 2 بجے کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق حملہ راکٹ فائر کے ذریعے کیا گیا جو تقریباً 12 منٹ تک جاری رہا، جس کے نتیجے میں 4 طالبان اہلکاروں کے ہلاک اور 2 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
خطے میں جاری تبدیلیوں اور چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں فریقین نے علاقائی استحکام اور سفارتی روابط کو مزید بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔