اسلام آباد میں منعقدہ پاک چین بزنس کانفرنس میں فارماسیوٹیکل شعبے کے مابین 44 کروڑ ڈالرز مالیت کے 9 معاہدے طے پا گئے، جس کے تحت ٹیکنالوجی منتقل اور مقامی طور پر ویکسین تیار ہوگی۔
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمتی گروہ نے ایک بڑی کارروائی کے دوران ضلع یفتل کا کنٹرول حاصل کر کے وہاں موجود اسلحہ اور فوجی سازوسامان اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
امریکی ایف بی آئی نے بھارتی گینگسٹر نتیش کوشل کو ورمونٹ سے گرفتار کر لیا، جس پر قتل، اغوا، منشیات و اسلحہ اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ سمیت متعدد سنگین الزامات عائد ہیں۔
افغانستان میں میڈیا کی آزادی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ طالبان کی انٹیلی جنس نے طلوع نیوز کے دو اہم صحافیوں اور مقامی ایجنسی کے جاوید نیازی سمیت 8 صحافیوں کو حراست میں لے لیا ہے، جن کی وجوہات تاحال نامعلوم ہیں۔
اس کارروائی میں مارا جانے والا واعظ احمد ولد غلام محمد، دراصل افغان شہری اور صوبہ وردک کے ضلع چک کے گاؤں بمبئی کا رہائشی تھا۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان نژاد شدت پسند براہِ راست ملوث ہیں، جو سرحد پار سے آکر یہاں بدامنی پھیلاتے ہیں۔
صرف سال 2025 کے ابتدائی مہینوں میں اب تک 34 سے زائد صحافیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ طالبان دورِ حکومت میں جبر و استبداد کی لہر میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اگست 2021 سے اب تک سینکڑوں میڈیا ورکرز کو "پروپیگنڈا"، "غیر ملکی روابط" اور "اخلاقی کرپشن" جیسے مبہم الزامات کے تحت قید کیا جا چکا ہے
طورخم سے پشاور تک ٹرکوں کی قطاریں دراصل واپسی کے عمل کی شفافیت اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کی وجہ سے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ہر جانے والے فرد کی بائیو میٹرک تصدیق اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
افغانستان کے صوبہ پنجشیر میں کئی گھنٹوں کی جھڑپوں کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے، طالبان نے سینکڑوں اہلکار روانہ کر کے گرفتاریاں شروع کر دیں اور مقامی مذہبی رہنما مولوی داد خدا کو حراست میں لے لیا۔
قطر نے امریکہ سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ کیمپ میں موجود افراد کی قانونی حیثیت کا جلد فیصلہ کیا جائے اور مستقبل میں مزید کسی افغان مہاجر کو قطر نہ بھیجا جائے۔
بلخ کے سابق پولیس کمانڈر ایشان خالد کی ہمشیرہ نے اختر لوچک نامی شخص پر گھر پر قبضے اور طالبان رکن سے زبردستی شادی پر مجبور کرنے کا الزام عائد کیا ہے؛ متاثرہ خاندان دربدر ہونے پر مجبور۔
یہ محض ایک قتل نہیں بلکہ اسماعیلی کمیونٹی کے خلاف جاری ٹارگٹڈ تشدد کے ایک منظم سلسلے کی کڑی ہے۔ دسمبر 2025 اور جنوری 2026 کے درمیان بھی اسماعیلی فرقے کے کم از کم تین افراد کو قتل کیا گیا، مگر اب تک کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا۔