یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔
بدخشاں میں سونے کی کانوں پر قبضے اور قندھار کی اجارہ داری کے خلاف طالبان کمانڈر جمعہ خان فتح کی قیادت میں مسلح بغاوت شروع ہو گئی ہے اور وزیر دفاع ملا یعقوب کی ثالثی بھی ناکام ہو چکی ہے۔
خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔
بدخشاں میں طالبان مخالف رہنما ملا جمعہ خان فاتح نے کہا ہے کہ وہ کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور پاکستان کی کسی بھی کارروائی کی صورت میں اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پیر کے روز ایک شدید دھماکے کی آواز سنی گئی ہے، جس کے بعد شہر کے مختلف حصوں سے آگ کے شعلے اور گاڑھا دھواں اٹھتا دیکھا گیا ہے۔
پاکستان نے کراچی دہشت گرد حملے میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے اور ایک دہشت گرد کی زندہ گرفتاری پر افغان ناظمِ الامور کو طلب کر کے سخت احتجاجی مراسلہ دے دیا ہے۔