Category: وسطی ایشیا

شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟

پاکستان نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بلوچستان کے پنجگور اور چاغی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک، بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا۔

کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد پر خودکش حملے میں 16 افراد شہید اور 40 سے زائد زخمی ہوئے، افغانستان میں موجود گروہ نے ذمہ داری قبول کرلی۔

افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے انٹرویو پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کو اندرونی معاملہ قرار دینے کی کوشش مسترد کرتے ہوئے امن کے لیے سنجیدہ اقدامات پر زور دیا ہے۔

سابق بھارتی وائس ایڈمرل نے پاکستان کی ہنگور کلاس آبدوزوں کو بھارتی بحریہ کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔

بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کے 7 سینئر رہنماؤں کو سزائے موت سنا دی۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں فرانس نے واضح کیا ہے کہ افغانستان میں داعش خراسان کے ٹھکانے اور صلاحیتیں اب بھی عالمی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ ہیں۔

افغانستان کے پانچ صوبوں میں تین دن کے دوران طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی آگئی۔

افغانستان میں مسلح مزاحمت نے اچانک شدت اختیار کر لی ہے۔ گزشتہ چار روز کے دوران چھ اہم صوبوں میں طالبان کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس مراکز پر پے در پے حملے کیے گئے ہیں۔

افغانستان میں القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے گٹھ جوڑ پر عالمی رپورٹس نے مہر لگا دی ہے۔ اس لیے خطے کے امن اور اقتصادی منصوبوں کو درپیش خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔

افغانستان میں مسلح مزاحمت میں اچانک شدت آ گئی ہے۔ مخالف گروہوں نے قندھار، خوست، غزنی، کنڑ اور بدخشاں میں طالبان اہلکاروں اور چوکیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

ایڈم وائن اسٹائن کے مطابق پاکستان اب خلیجی دفاعی تعاون، امریکا ایران رابطوں اور معاشی امکانات کے باعث اہم علاقائی شراکت دار بن رہا ہے۔

روسی تجزیہ کار آندرے سیریںکو کے مطابق طالبان داعش خراسان کے خطرے کو استعمال کرکے چین اور دیگر علاقائی ممالک سے عسکری حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہرات میں پانچ طالبان اہلکاروں نے 30 سالہ عبدالقدیر پہلوان زادہ کو تشدد کے بعد قریب سے گولی مار کر قتل کردیا۔ مقتول کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔