Category: اداریہ

شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے جواب میں ایران کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی دھمکی دے دی۔

سید علی شاہ گیلانی کی پانچویں برسی پر ان کی طویل سیاسی جدوجہد، نظریاتی ثابت قدمی اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے کردار کو یاد کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد کانفرنس میں طالبان حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر حکمرانی، خواتین کے حقوق اور سکیورٹی خطرات زیر بحث۔

لاہور جنرل ہسپتال کے گائنی وارڈ میں آگ لگنے سے حاملہ خواتین سمیت 70 افراد کو باہر نکال لیا گیا، فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پالیا۔

پاکستان 2026-27 کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کونسل کی صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم شہباز شریف نے اعلامیے پر دستخط کردیئے۔

دنیا جس قدر معاشی دباؤ اور توانائی کے بحران کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی، اس میں اچانک ٹھہراؤ اور سکون محض اتفاق نہیں بلکہ پاکستان کی انتھک محنت اور سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی، آبنائے ہرمز کا کھلنا اور امریکہ۔ایران کشیدگی میں کمی دراصل ایک بڑے سفارتی عمل کے ثمرات ہیں۔

امریکی جریدے 'واشنگٹن ٹائمز' نے آپریشن غضب للحق کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف انتہائی درست اور جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

فن اور ثقافت کی اوٹ میں ریاستی قوانین کی پامالی اور قومی حمیت سے انحراف ناقابلِ قبول ہے۔ عدالتی احکامات اور ضوابط کی پاسداری ہر ادارے کا قانونی و اخلاقی فریضہ ہے۔

سندھ طاس معاہدے کی پامالی محض ایک تکنیکی تنازع نہیں بلکہ پاکستان کی بقا اور معیشت کے خلاف بھارت کی ایک سوچی سمجھی 'تزویراتی جنگ' ہے۔ بھارت کی اس آبی جارحیت اور 'واٹر بم' پالیسی نے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کو پامال کیا ہے بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے

پاکستان نے ان مذاکرات کی میزبانی ایسے وقت میں کی جب خطہ انتہائی پیچیدہ اور کٹھن حالات سے گزر رہا تھا، اور معمولی سی تزویراتی غلط فہمی کسی بڑے علاقائی تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی تھی۔ اسلام آباد کی اس سنجیدہ سفارتی کوشش نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت اور سفارتی رسائی کے باعث مخالف فریقین کو ایک میز پر لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے

تیرہ اپریل 1919 کا سانحہ جلیانوالہ باغ اور عصرِ حاضر میں فلسطین پر جاری اسرائیلی جارحیت محض دو الگ واقعات نہیں، بلکہ ایک ہی استعماری سوچ کا تسلسل ہیں۔ برطانوی راج کے ’رولٹ ایکٹ‘ سے لے کر صیہونی ریاست کی ’انتظامی حراست‘ تک، جابروں نے ہمیشہ قانون کو نہتے عوام کی آواز دبانے اور نسل کشی کو جواز فراہم کرنے کے لیے آلہ کار بنایا ہے

پاکستان کی تاریخی سفارتی فتح؛ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کوششوں نے امریکہ اور ایران کو ہولناک جنگ کے دہانے سے نکال کر میز پر بٹھا دیا ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن کے ضامن کے طور پر ابھر کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی بڑے تصادم کو روکنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے

متحدہ عرب امارات کے ڈیپازٹس کی واپسی کو 'سفارتی دوری' کا رنگ دینے والا حالیہ پراپیگنڈا درحقیقت پاک امارات تعلقات کی تزویراتی گہرائی سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ یہ اقدام مالی دباؤ نہیں بلکہ پاکستان کی 'مالیاتی پختگی' اور معاشی وقار کا مظہر ہے، جو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ پاکستان اب اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھتے ہوئے تمام بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے

خلیج فارس دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی فراہم کرتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے روزانہ 17 سے 20 ملین بیرل تیل گزرتا ہے۔ اس اہم گزرگاہ کو بند کرنے یا اس پر دباؤ ڈالنے کی دھمکی عالمی معیشت کے لیے شدید جھٹکا بن سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔

صحافت کی بنیاد ہی حقائق کی غیر جانبدارانہ فراہمی پر استوار ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے پاک افغان تعلقات کے حالیہ تناظر میں سرحد پار سے صحافت کے لبادے میں جس طرح ’ڈس انفارمیشن‘ یا غلط معلومات کو ایک نفسیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، اس نے پیشہ ورانہ صحافت کے اعلیٰ اصولوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے