حکومت سے مذاکرات کے بعد پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے، جس میں لانگ مارچ کی تاریخ بڑھانے اور مذاکرات جاری رکھنے پر غور کیا گیا۔
شمالی وزیرستان کے علاقوں میر علی اور میران شاہ میں سکیورٹی فورسز نے گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران متعدد کامیاب آپریشنز کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 27 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
ضلع خیبر کے قبائلی عمائدین نے دہشت گردی، اغوا اور بدامنی کے خلاف عوامی تحریک کا آغاز کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے قیام تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کا خطرناک سکیورٹی گٹھ جوڑ بے نقاب ہو گیا ہے، جس میں افغان سرزمین سے دہشت گردوں کو جدید ترین ہتھیاروں کی فراہمی کے ناقابلِ تردید ثبوت منظرِ عام پر آئے ہیں۔
رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے خلاف ہے، اور بی ایل اے و بی وائی سی نے اس معاملے میں تمام حدود پار کر دی ہیں۔
شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوجی چوکی پر خودکش حملے کی کوشش کو ناکام بنا دیا اور تعاقب کے دوران 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
اسکاٹ کیلی کے مطابق حالیہ حملوں کے بعد بی ایل اے پر عالمی توجہ بڑھ رہی ہے، تاہم اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو مالیاتی نیٹ ورکس کی بندش اور بہتر گورننس پر مبنی جامع پالیسی بنانا ہوگی۔
بنوں کے علاقے بکا خیل میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے تفتانِ ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر شاہد عرف کمانڈو کا پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے گہرا تعلق اور ماضی کی وابستگی کے دستاویزی شواہد سامنے آئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو نے بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا اخلاقی زوال بے نقاب کر دیا ہے، جہاں بھارتی فنڈنگ کے عوض معصوم خواتین اور نوجوانوں کو گمراہ کر کے دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔