Category: خیبر اور بلوچستان

وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور صوبائی حکومت عوام کے بجائے خارجیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔

کے پی میں دہشتگردی اور منشیات کے مبینہ گٹھ جوڑ نے امن تباہ کر دیا۔ ایک دہائی سے اقتدار پر قابض پی ٹی آئی پولیس فورس کو جدید آلات دینے اور صوبے کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔

افغانستان بھر میں مسلح مزاحمت کا دائرہ پھیل گیا ہے، جہاں طالبان کے انٹیلی جنس اور سکیورٹی مراکز پر حملوں میں درجنوں اہلکار ہلاک ہو گئے۔

حکومت سے مذاکرات کے بعد پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے، جس میں لانگ مارچ کی تاریخ بڑھانے اور مذاکرات جاری رکھنے پر غور کیا گیا۔

دفتر خارجہ نے بھارتی ناظم الامور کو طلب کر کے ورکنگ باؤنڈری پر بی ایس ایف کی فائرنگ سے 2 پاکستانی شہریوں کے قتل پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

ضلع باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 5 خارجی دہشت گردوں کو ہلاک کر کے بھاری اسلحہ برآمد کر لیا۔

اس اہم بیٹھک میں وفاقی وزراء علی پرویز ملک اور رانا ثناء اللہ، گورنر خیبر پختونخوا اور صوبائی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف ڈاکٹر عباد نے شرکت کی۔

عوام اب ان کھوکھلے نعروں، ٹک ٹاک کلپس اور سستی شہرت کے ڈراموں سے مکمل طور پر لاچار اور بیزار ہو چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا کو اس وقت کیمروں اور مسخروں کی نہیں بلکہ سنجیدہ منتظمین اور ترقی کی ضرورت ہے۔

نوشکی کے قریب بسوں سے اتار کر مسافروں کی ہلاکتیں، اور جعفر ایکسپریس کو 30 گھنٹے تک یرغمال بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ مہم آزادی کی نہیں بلکہ معصوم بلوچ عوام کے مستقبل کو تاریک کرنے کی سازش ہے۔

خیبر پختونخوا میں بدامنی کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر عائد کی گئی ہے، ان کے مبہم بیانیے اور پولیس و سکیورٹی معاملات میں مبینہ غفلت پر تنقید کی گئی ہے۔

بلوچستان کے علاقے منگلہ زرغون غر میں 13 مئی سے جاری سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنہ ہندوستان کے 35 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے اور 3 کمانڈرز کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بلوچستان کی غیور بیٹیاں آج بھی تمام تر خطرات کے باوجود فرنٹ لائن پر کھڑی ہو کر ریاست اور عوام کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ لیڈی کانسٹیبل شکیلہ بلوچ شہید کی یہ عظیم قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، بلکہ یہ دہشت گردی کے خلاف برسرِپیکار فورسز اور عوام کے عزم کو مزید مضبوط کرے گی۔

کالعدم بی ایل اے کے اندرونی دھڑوں میں کنٹرول کی جنگ شدت اختیار کر گئی، بشیر زیب گروپ نے اہم کمانڈر کے بھائی کو ہلاک کر دیا، جبکہ تنازع کی وجہ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا اغوا بتایا جا رہا ہے۔

بلوچستان کے شہر تربت کے علاقے آبسر میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں لیڈی کانسٹیبل جاں بحق جبکہ ان کا شوہر اور 5 سالہ بیٹا شدید زخمی ہو گئے۔

ضلع کرم میں سکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک اور 2 اہلکار شہید ہو گئے۔

باجوڑ کے ڈمانگی کیمپ حملے کی تحقیقات میں خودکش حملہ آور کی شناخت جلال الدین عرف سجاد (افغان شہری) کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ دیگر ہلاک دہشت گرد بھی افغان قرار دیے گئے ہیں۔