وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور صوبائی حکومت عوام کے بجائے خارجیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔
کے پی میں دہشتگردی اور منشیات کے مبینہ گٹھ جوڑ نے امن تباہ کر دیا۔ ایک دہائی سے اقتدار پر قابض پی ٹی آئی پولیس فورس کو جدید آلات دینے اور صوبے کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔
حکومتِ بلوچستان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی، قانون کی بالادستی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے پیشِ نظر کیے جا رہے ہیں۔ ریاست دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے اپنے غیر ملکی آقاؤں کے ایما پر بلوچستان میں ترقیاتی عمل اور عوامی زندگی کو متاثر کرنے کے لیے نہایت بزدلانہ حملے کیے۔ ضلع گوادر اور خاران میں دہشت گردوں نے جان بوجھ کر 18 معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، جن میں خواتین، بچے، بزرگ اور محنت کش مزدور شامل تھے، جو جامِ شہادت نوش کر گئے۔
سیکیورٹی حکام نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خیبرپختونخوا، بشمول وادیٔ تیراہ، میں جاری کارروائیاں بلا امتیاز نہیں بلکہ مکمل طور پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ہیں، جن کا ہدف مسلح شدت پسندوں کے ٹھکانے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ شدت پسند نیٹ ورکس سرحد پار حملوں اور مسلسل عدم تحفظ سے جڑے ہوئے ہیں۔
پارٹی کے کئی رہنما اس لیک پر خاموش ہیں، لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ اس آڈیو نے نہ صرف پارٹی کی یکجہتی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے بلکہ آئندہ سیاسی فیصلوں اور اندرونی انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
بنوں میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے مشترکہ آپریشن کے دوران ٹی ٹی پی کا اہم کمانڈر زیوران عرف بدری چار ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا، جو سکیورٹی اداروں کو متعدد حملوں میں مطلوب تھا
الیکشن کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں منتخب نمائندوں کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کے عمل میں تیزی لائی جا رہی ہے، تاکہ شفافیت اور احتساب کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔ اسی سلسلے میں ڈاکٹر امجد علی کے اثاثوں کا ریکارڈ بھی زیرِ جائزہ لایا جا رہا ہے۔
تعلیم کے شعبے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں غیر فعال تعلیمی اداروں، جنہیں “گھوسٹ اسکولز” کہا جاتا تھا، کو بحال کیا گیا ہے تاکہ بلوچستان کے بچوں کو تعلیم کی سہولت میسر آ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم انتہاپسندی کے خاتمے اور دیرپا سماجی استحکام کی بنیاد ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا اس وقت بدترین انتظامی بحران سے گزر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ نہ تو امن و امان کو سنبھالنے میں کامیاب ہو سکے ہیں اور نہ ہی اپنی کابینہ اور انتظامیہ کو ایک واضح سمت دے پا رہے ہیں۔
میجر جنرل مدثر سعید نے علماء کرام پر زور دیا کہ دہشت گردی جیسے ناسور کے خاتمے کے لیے وہ صفِ اوّل کا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور مدارس کے طلباء تک اسلام کی درست تعلیمات پہنچانا، مدارس کی رجسٹریشن، مساجد سے مثبت اور ذمہ دارانہ پیغام دینا اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔