Category: خیبر اور بلوچستان

شمالی وزیرستان اور قلات میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 11 مبینہ دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔

مقبوضہ کشمیر میں سابق پاک فوجی کی ہلاکت کا بھارتی دعویٰ جھوٹا نکلا؛ محمد آصف خود میڈیا کے سامنے پیش ہو گئے۔

قصور میں پاک بھارت سرحد کے قریب بھارتی بی ایس ایف کی مبینہ فائرنگ سے 2 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔

کور کمانڈرز کانفرنس میں افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں کو پاکستان کا دفاعی حق قرار دیا گیا، جبکہ بہتر گورننس پر بھی زور دیا گیا۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی بات بہت آگے بڑھ چکی ہے اور اب اس کے نفاذ کے تکنیکی معاملات پر گفتگو ہو رہی ہے۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم ہوگیا، دونوں فریق کل دوبارہ مذاکرات کریں گے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات بھی اہم معاملہ بن گئی۔

خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 17 دہشت گرد ہلاک جبکہ 6 جوان شہید ہوگئے۔

پریشن 11 گرج کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 56 خوارج ہلاک اور 100 کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

آواران کے علاقے بدرنگ میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 3 دہشتگرد ہلاک ہوگئے، اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔

مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی، ڈرون حملے میں کالعدم بی ایل اے کے 7 مسلح افراد ہلاک ہوگئے۔

میرعلی زڑکی میں جھڑپوں کے دوران شہری گھر پر مارٹر گولے گرنے سے متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے۔

کوئٹہ کے سریاب روڈ پر چھ مسلح ملزمان نجی بینک سے کیش لوٹ کر فرار ہوگئے، پولیس نے ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا۔

خضدار میں 16 سالہ طالبہ سدرا کے مبینہ اغوا کا دعویٰ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، تاہم واقعے کی آزادانہ یا سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ضلع باجوڑ کے علاقے کوہی ڈھیرئی میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کامیاب کارروائی کی۔ اس دوران داعش سے وابستہ مطلوب دہشتگرد مارا گیا۔

اشتیاق کے معاملے پر سہیل آفریدی کی جانب سے اسے عاشقِ رسول قرار دینے کے بعد مذہبی جذبات کے سیاسی استعمال اور پی ٹی آئی کے کردار پر سوالات اٹھ گئے۔

لاہور میں سہیل آفریدی کی ازخود گرفتاری کا ڈرامہ، پولیس وین سے خود اتر گئے، جبکہ خیبر پختونخوا میں بدامنی کے دوران وزیراعلیٰ کی سیاسی سرگرمیوں پر سوالات اٹھ گئے۔