خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔
نوشکی کے قریب بسوں سے اتار کر مسافروں کی ہلاکتیں، اور جعفر ایکسپریس کو 30 گھنٹے تک یرغمال بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ مہم آزادی کی نہیں بلکہ معصوم بلوچ عوام کے مستقبل کو تاریک کرنے کی سازش ہے۔
بلوچستان کے علاقے منگلہ زرغون غر میں 13 مئی سے جاری سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنہ ہندوستان کے 35 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے اور 3 کمانڈرز کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
بلوچستان کی غیور بیٹیاں آج بھی تمام تر خطرات کے باوجود فرنٹ لائن پر کھڑی ہو کر ریاست اور عوام کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ لیڈی کانسٹیبل شکیلہ بلوچ شہید کی یہ عظیم قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، بلکہ یہ دہشت گردی کے خلاف برسرِپیکار فورسز اور عوام کے عزم کو مزید مضبوط کرے گی۔
کالعدم بی ایل اے کے اندرونی دھڑوں میں کنٹرول کی جنگ شدت اختیار کر گئی، بشیر زیب گروپ نے اہم کمانڈر کے بھائی کو ہلاک کر دیا، جبکہ تنازع کی وجہ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا اغوا بتایا جا رہا ہے۔
بلوچستان کے شہر تربت کے علاقے آبسر میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں لیڈی کانسٹیبل جاں بحق جبکہ ان کا شوہر اور 5 سالہ بیٹا شدید زخمی ہو گئے۔
باجوڑ کے ڈمانگی کیمپ حملے کی تحقیقات میں خودکش حملہ آور کی شناخت جلال الدین عرف سجاد (افغان شہری) کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ دیگر ہلاک دہشت گرد بھی افغان قرار دیے گئے ہیں۔
پنجاب اور سندھ کے مقابلے میں خیبر پختونخوا پولیس کا بجٹ کئی گنا زیادہ ہونے کے باوجود فورس وسائل کی کمی کا شکار ہے، جس نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔