کسی بھی جمہوری معاشرے میں احتجاج کا حق بنیادی ہے، لیکن اس کی ایک قیمت ہوتی ہے جو ہمیشہ معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ ادا کرتا ہے۔ شٹر ڈاؤن اور ہڑتالوں سے کسی وزیر یا اشرافیہ کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ اس کی زد میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور، چھوٹا تاجر، تعلیمی اداروں سے دور ہوتا طالب علم اور ہسپتال پہنچنے کی کوشش میں بے بس مریض آتا ہے۔
ملک میں دہشت گردی کے سنگین چیلنجز کے باوجود تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی حکمتِ عملی کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں اہم اجلاس طلب کر لیا۔
ضلع خیبر میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 'فتنہ الخوارج' کے 22 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک معصوم بچہ شہید ہو گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے اسمبلی کے فلور پر پہلے ہی دن یہ عہد کیا تھا کہ صوبے میں کوئی بھی ملازمت فروخت نہیں ہونے دی جائے گی، اور وہ اس عہد کی پاسداری کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں اساتذہ کی 99.99 فیصد بھرتیاں خالصتاً میرٹ پر کی گئی ہیں۔
بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی خاتون پولیس افسر کی شہادت؛ خضدار میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کے دوران لیڈی کانسٹیبل ملک ناز شہید، شوہر کے بعد اہلیہ نے بھی وطن پر جان قربان کر دی۔
صوبائی وزیر مینا خان کا کہنا ہے کہ محمود اچکزئی کی مشاورت سے معاملات کو آگے بڑھایا جائے گا اور مردان جلسے سے متعلق احکامات بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے جاری کیے گئے تھے۔
کالعدم ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے؛ کرک سے تعلق رکھنے والے اہم کمانڈر کلیم اللہ عرف سیف العمر کو بدمزگی کے بعد اپنے ہی ساتھیوں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا
بنوں میں انڈس ہائی وے پر سکیورٹی فورسز کے قافلے پر دھماکہ؛ ایک اہلکار شہید اور تین زخمی، فورسز کا کانوائے پشاور سے بنوں آ رہا تھا، علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع۔