کابل میں طالبان حکومت کی وزارتِ انصاف میں وزیرِ انصاف عبدالحکیم حقانی کے بھتیجوں اور قریبی افراد کا مالیاتی و انتظامی امور پر کنٹرول اور کرپشن کا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا ہے۔
2024 میں بنگلہ دیش کے سیاسی بحران، جیلوں سے قیدیوں کے فرار اور اسلحے کے پھیلاؤ نے ایک ایسا خلا پیدا کیا جس سے انتہا پسند عناصر فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ بنگلہ دیش میں پہلے سے موجود شدت پسند تنظیمیں، جیسے جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی)، حرکت الجہاد الاسلامی بنگلہ دیش (ہوجی-بی) اور انصار الاسلام، ایک نظریاتی ماحول فراہم کرتی رہی ہیں جس میں بیرونی گروہوں کے لیے جڑیں مضبوط کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔
وزیرِ خارجہ اسحق ڈار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطین کی صورتحال پر منعقدہ خصوصی بریفنگ میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف پاکستان کا مٔوقف پیش کریں گے
خیبرپختونخوا کے علاقے کبل گرام میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن میں فتنہ الخوارج کے سرغنہ نور اسلام سمیت تین دہشت گرد ہلاک، جبکہ مقابلے میں پولیس کے تین جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا
حکام کے مطابق واقعے کی نوعیت اور محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے حملے کے ذمہ دار عناصر کی تلاش میں مصروف ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر مفتی برجان نے جماعت الاحرار کو 'فسادی' قرار دیتے ہوئے منحرف ارکان کے قتل کا فتویٰ جاری کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متوازی نظام قائم کرنے والے جہاد کے راستے میں رکاوٹ ہیں
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارتی ٹیم ریکارڈ کے اعتبار سے پاکستان پرحاوی ہے،دونوں ٹیمیوں کے درمیان اس فارمیٹ کےمیگا ایونٹ میں 8 مقابلے ہوئےجس میں سے 7 بھارت نےجیتے ہیں، صرف ایک میں پاکستان کو فتح ملی ہے۔
بنگلہ دیش ایک بڑے بحران سے گزرا ہےا ور اس نے الیکشن کروا لیے ہیں ، انتقال اقتدار ہو رہا ہے۔ جو جماعت اسلامی کل تک حسینہ واجد کے ٹارچر سیلوں میں قتل ہو رہی تھی اب دوسری بڑی طاقت بن کر ابھری ہے۔ یہ غیر معمولی کامیابی ہے۔ یہ سب کی کامیابی ہے۔ یہ بنگلہ دیش کی کامیابی ہے۔
بنگلہ دیش کے 13ویں عام انتخابات کے نتائج نے نہ صرف ملک کی داخلی سیاست میں نئی صف بندیوں کو جنم دیا ہے بلکہ خطے کی سفارتی صورتحال پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔ حتمی سرکاری نتائج کے اعلان کے بعد سیاسی منظرنامہ مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔
اقوامِ متحدہ کی 37 ویں رپورٹ نے افغان سرزمین کے دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کی تصدیق کر دی؛ ٹی ٹی پی کو حاصل طالبان کی سرپرستی، جدید اسلحے تک رسائی اور نور ولی محسود کے 'جعلی مفتی' ہونے کے انکشافات