کابل میں طالبان حکومت کی وزارتِ انصاف میں وزیرِ انصاف عبدالحکیم حقانی کے بھتیجوں اور قریبی افراد کا مالیاتی و انتظامی امور پر کنٹرول اور کرپشن کا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا ہے۔
عوام اب تھک چکے ہیں۔ انہیں نعروں، بیانیوں اور ٹی وی مباحث کی گردان نہیں چاہیے۔ انہیں محفوظ سڑکیں، مضبوط عمارتیں، فعال فائر بریگیڈ، احساس اور جواب دہی پر مبنی نظام چاہیے۔ انہیں یہ یقین چاہیے کہ گھر سے نکلنے والا بچہ شام کو زندہ واپس آئے گا، اور گھر میں رہے گا تو چھت نہیں گرے گی۔
جنوبی زون کا سربراہ گورنر قندھار ملا محمد علی حنفی المعروف ملا شیریں ہیں، جس میں قندھار، ہلمند، ارزگان، زابل اور نیمروز شامل کیے گئے ہیں۔ شمال مشرقی زون کی ذمہ داری گورنر قندوز ملا محمد خان دعوت کے سپرد کی گئی ہے، جس میں قندوز، تخار، بغلان اور بدخشان شامل ہیں اور یہ علاقہ تاجکستان اور چین کی سرحدوں کے قریب واقع ہے۔
عالمی اقتصادی فورم ڈیووس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی، جہاں انہوں نے گرین لینڈ کے حصول کو امریکی قومی سلامتی سے جوڑتے ہوئے فوری مذاکرات کا مطالبہ کیا، نیٹو کے کردار پر سوال اٹھائے اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کے واضح اشارے دیے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ خطے ایک دن میں نہیں ٹوٹتے وہ تب بکھرتے ہیں جب خاموش مفاہمتیں اجتماعی ریڈ لائنز کی جگہ لے لیں۔ جب اونٹ آخرکار کسی ایک سمت کا انتخاب کرتا ہے تو زمین ہمیشہ کے لیے سرک جاتی ہے۔ اور یہی سرکاؤ خلیج سے جنوبی ایشیا تک طاقت کی سیاست کے اگلے مرحلے کا تعین کرے گا۔
عالمی جنوب اور برکس کے کئی اہم ممالک سعودی عرب کی حمایت کر رہے ہیں۔ اگر بھارت اسرائیل اور یو اے ای کے محور کی جانب جھکاؤ دکھاتا ہے تو اس سے عالمی جنوب میں قیادت کے اس کے دعوے کمزور پڑ سکتے ہیں۔
پاکستان کے سرحدی صوبوں میں جون 2025میں پاکستان کو دھوکہ دینے کی خاطر بظاہر ٹی ٹی پی کو روکنے کے لئے قائم کی گئی ٹاسک فورس جس کا سربراہ سابق گورنر خوست مولوی قاسم خالد کو بنایا گیا ہے ، وہ بھی ان بھرتیوں میں تعاون کر رہا ہے ۔ سورس کے مطابق منصوبہ بندی کے تحت پاکستان میں دہشت گردی میں افغان شہریوں کو پیچھے رکھتے ہوئے نئے بھرتی ہونےو الے پاکستانی شہریوں اور افغان مہاجرین کو فرنٹ پر رکھا جائے گا ، تاکہ یہ دعویٰ کیا جا سکے کہ طالبان نے افغان شہریوں کو دہشت گردی سے روک لیا ہے ۔
عوام راج پارٹی کے قیام کو دو زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک طرف یہ ردعمل کی سیاست ہے، جو موجودہ سیاسی اشرافیہ، موروثی سیاست اور کرپشن کے خلاف عوامی غصے کا اظہار بن کر سامنے آئی ہے۔ اقرار الحسن کا بیانیہ عام آدمی کی محرومی، انصاف کی عدم دستیابی اور طاقتور طبقات کی جوابدہی کے گرد گھومتا ہے۔ دوسری طرف یہ شہرت سے سیاست تک کا سفر ہے۔ اقرار الحسن کی مقبولیت میڈیا کے ذریعے بنی، سیاست کے ذریعے نہیں۔
اچکزئی صاحب کی وجہ سے اگر معاملات میں تعطل اور ڈیڈ لاک ختم ہو جاتا ہے، جن عہدوں پر تعیناتیاں اس لیے رکی ہوئی تھیں کہ اب تک وزیر اعظم ا ور اپوزیش لیڈر میں مشاورت نہیں ہو سکی تھی وہ تعیناتیاں اگر ہو جاتی ہیں اور قومی اسمبلی کی فعالیت میں اضافہ ہو جاتا ہے تو اسے حکومت اپنی کامیابی قرار دے گی
دوسرا گروہ کابل میں موجود طاقتور طالبان وزرا پر مشتمل ہے، جو خود کو زیادہ عملیت پسند قرار دیتا ہے۔ اس گروہ میں نائب وزیر اعظم عبدالغنی برادر، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد شامل ہیں۔