Category: تجزیات

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

سعودی اتحاد کے مطابق مکہ ریجن میں ایک ڈرون کی نشاندہی کے بعد اسے فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

سانحہ نائن الیون کے بعد جنگ کا دائرہ اسلام اور پاکستان تک پھیلا دیا گیا۔ دو دہائیوں کی تباہی کے بعد امریکہ افغانستان میں بدترین شکست سے دوچار ہوا۔

گیارہ ستمبر 1948 کو بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح انتقال کر گئے تھے۔ 78 برس بعد بھی ان کے اصول، اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط، پاکستان کی قومی گفتگو کا اہم حصہ ہیں۔

سہارنپور میں فجر سے پہلے مسجد گرا دی گئی، ملبے سے 1909 کی اینٹ اور صدی پرانا کنواں نکلا۔ بابری سے نوح تک، مودی حکومت اور آر ایس ایس کے ایجنڈے کا مکمل تجزیہ۔

نئے صوبے پاکستان کی ترقی کو تیز کر سکتے ہیں، مگر اس کے لیے مضبوط منصوبہ بندی، مالی وسائل اور سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔

آٹھ ستمبر کو یومِ بحریہ منایا جا رہا ہے۔ 1965 کا آپریشن دوارکا، معرکۂ حق اور آپریشن محافظُ البحر پاک بحریہ کی جرات اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی نمایاں مثالیں ہیں۔

عالمی یومِ خواندگی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خواندگی صرف پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت نہیں بلکہ معلومات سمجھنے، فیصلے کرنے اور اپنے حقوق تک رسائی حاصل کرنے کی بنیادی ضرورت ہے۔

چناب نگر کے سانحے سے لے کر قومی اسمبلی کے تاریخی فیصلے تک، جانیے کیسے پوری قوم اور تمام مکاتبِ فکر کے علماء ایک عقیدے کے تحفظ کے لیے یکجا ہوئے۔

سات ستمبر 1965 کو سرگودھا کے آسمان پر ایم ایم عالم کا یادگار فضائی معرکہ ہوا۔ چند لمحوں کی اس کارروائی نے انہیں جنگِ 1965 کی نمایاں شخصیات میں شامل کردیا۔

پانچ ستمبر 1965 کو پاک فوج اخنور کے اسٹریٹیجک پل کے قریب پہنچی تو بھارتی عسکری قیادت میں کھلبلی مچ گئی۔ اس پیش قدمی نے بھارت کو 6 ستمبر کو بین الاقوامی سرحد پر حملہ کرنے پر مجبور کیا۔

تین ستمبر 1965 کو چھمب کے بعد جوڑیاں کے محاذ پر پاک فوج کی پیش قدمی نے بھارتی دفاع کی بنیادیں ہلا دیں اور معرکے کا رخ متعین کر دیا۔