Category: تجزیات

ایران امریکہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز، ایران و عمان کا آبنائے ہرمز میں بحری راہداری پر اتفاق، روسی میڈیا کا نئی جنگ بندی کا دعویٰ سامنے آگیا۔

دالبندین سیکٹر میں سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے 3 افغان شہریوں کو گرفتار کرلیا، گرفتار افراد کو گزشتہ روز رہا کیا گیا تھا۔

سوات میں باپ بیٹی کے قتل پر سوالات اٹھ گئے، مقتول لڑکی نے دو ہفتے قبل پشاور پریس کلب میں تحفظ کی اپیل کی تھی۔

پاکستان نے شام پر امریکی پابندیاں ختم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے شامی معیشت اور علاقائی استحکام کے لیے مثبت قرار دیا۔

زیبک، بدخشاں میں طالبان اور فریڈم فرنٹ کی جھڑپیں، 10 طالبان جنگجوؤں کی ہلاکت اور 6 کے زخمی ہونے کا دعویٰ۔

افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے پاکستان سے رابطہ کمیٹی بنانے کی تجویز دے دی۔

جون 2025 میں ایران اسرائیل جھڑپوں میں ایرانی عسکری قیادت اور شہری مراکز شدید متاثر ہوئے، جبکہ ایران کی کمزور انٹیلی جنس اور فضائی صلاحیت واضح ہو گئی

اگر مشرقِ وسطیٰ کی آگ پھیلی تو اس کے شعلے ہماری سرحدوں تک بھی آ سکتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو نہ صرف غیر جانبداری اختیار کرنی ہوگی بلکہ واضح، جراتمندانہ سفارتی موقف بھی اپنانا ہوگا۔ خاموش تماشائی بننے کا وقت نہیں، بصیرت اور پیش بندی کا وقت ہے۔ کیونکہ عالمی سیاست میں کمزور کی غیر جانبداری بھی اکثر محفوظ نہیں رہتی۔

​اس پورے منظر نامے کا سب سے خوفناک پہلو ہمارا ازلی دشمن انڈیا ہے۔ انڈیا کبھی نہیں چاہے گا کہ دو ایسے ممالک، جن کا کلمہ، مذہب، ثقافت، لباس اور زبان ایک ہو، کبھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں۔ نئی دہلی کے لیے افغانستان صرف ایک پڑوسی نہیں بلکہ پاکستان کی کمر میں چھرا گھونپنے کا ایک "سیکنڈ فرنٹ" ہے۔

جس طریقے سے فلسطین میں اسرائیل نے فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے کیے، انہیں بے دخل کیا، ان سے زمینیں چھینیں، شہریت کے قوانین کے ذریعے ان کا استحصال کیا، انہیں در بدر کر کے بکھیر دیا، ان کی جائیدادیں ہتھیا لیں، نوآبادیاتی طرز پر ریاستی زمین کے اصول کے نام پر انہیں اپنی ہی سر زمین پر محکوم بنا دیا، بالکل اسی طرح اسی طرز پر بھارت کشمیر میں اسرائیلی فار مولے کے تحت اس کی مشاورت اور اعانت سے کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں پر ظلم کر رہا ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں سرحد پار موجود ایسے ٹھکانوں کے خلاف ہیں جو اس کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اگر افغانستان کی سرزمین کسی بھی مسلح گروہ کے لیے استعمال ہو رہی ہے تو اس کی ذمہ داری کابل پر عائد ہوتی ہے۔ دوسری طرف افغان عوام کی ایک بڑی تعداد یہ چاہتی ہے کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، کیونکہ اس کا نتیجہ بمباری، پابندیوں اور تنہائی کی صورت میں نکلتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایسی کسی ناگہانی صورت میں کیا ایرانی رجیم امت مسلمہ کی ناراضگی مول لینے کی متحمل ہو سکے گی؟ جبکہ وہ اپنی معاندانہ پالیسیوں کی بدولت پہلے ہی مسلم دنیا میں ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے ۔ اس کے باوجود اگر ایرانی رجیم ایسی حماقت کرتی ہے ۔ تو ایسی صورت میں مسلمان اور نصاریٰ کا اتحاد ایرانی رجیم کے بستر گول کرنے کا باعث بن سکتا ہے، جو شاید ایرانی رجیم کو منظور نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ ایرانی رجیم اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے امریکی اڈوں کووقتاََ فوقتاََ نشانہ تو بنائے ، لیکن احتیاط کے ساتھ۔ تاکہ ان حملوں سے کوئی مسلمان شہید نہ ہو۔

یہ ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ، جہاں اگر قبضہ کر بھی لیا جائے تو برقراررکھنا مشکل ہے کیونکہ ایک طویل سپلائی لائن بنانا پڑے گی۔ اس کی غیر معمولی حساسیت کی ایک وجہ چینی سرحد سے متصل ہونا بھی ہے۔ چین اس بارے میں بہت حساس اور اس حوالے سے معمولی سی بے چینی یا اضطراب بھی برداشت نہیں کر پائے گا۔

یہ بھی ایک تسلیم شدہ حربہ ہے کہ دہشت گرد عناصر شہری آبادی، خواتین یا مذہبی مقامات کی آڑ لیتے ہیں تاکہ جوابی کارروائی کو متنازع بنایا جا سکے۔ یہ حکمت عملی نہ صرف اخلاقی دیوالیہ پن ہے بلکہ شریعت کی صریح خلاف ورزی بھی یے۔ رسول اللہ ﷺ نے جنگ کے آداب بیان کرتے ہوئے عورتوں اور بچوں کو نقصان نہ پہنچانے کی ہدایت دی (سنن ابی داؤد)۔ مگر جو خود شہریوں کو ڈھال بنائے، وہی دراصل انہیں خطرے میں ڈالتا ہے۔ یہ مظلومیت کا بیانیہ گھڑ کر اصل ذمہ داری سے فرار کی کوشش ہے۔

سیاسی کارکن ایک نعمت ہوتا ہے مگر سیاسی کارکن شعور کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔ وہ بے لگام عصبیت کا اندھا مجاور نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ہر عصبیت کے گرد زباں بکف کارکنان ہیں ۔ ہر رہنما کے گرد اس کے حصے کے بے وقوفوں کی فصیل ہے۔ یہ کسی دلیل کے محتاج نہیں ، ان کے لے ان کا قائد ہی معیار حق ہے۔ معاشرہ ان کے ہاتھوں یر غمال ہے ، اس کا دم گھٹ رہا ہے۔

آئینِ پاکستان کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے، جس کے خلاف فتنہ الخوارج کی مسلح بغاوت صریحاً شرعی انحراف ہے؛ ریاست کی سفارت کاری عوامی تحفظ کا خود مختار ذریعہ ہے جسے غداری قرار دینا گمراہ کن پروپیگنڈا ہے