Category: تجزیات

امریکا نے داعش خراسان کے سربراہ ثناء اللہ غفاری اور اہم مالیاتی عہدیدار عبید اللہ سے متعلق معلومات پر ایک کروڑ ڈالر تک انعام کا اعلان کر دیا۔

باجوڑ میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جھانگیر آباد سے شرپسند عناصر کے چھپائے گئے 14 مارٹر گولے برآمد کرلیے۔

ایران امریکہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز، ایران و عمان کا آبنائے ہرمز میں بحری راہداری پر اتفاق، روسی میڈیا کا نئی جنگ بندی کا دعویٰ سامنے آگیا۔

دالبندین سیکٹر میں سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے 3 افغان شہریوں کو گرفتار کرلیا، گرفتار افراد کو گزشتہ روز رہا کیا گیا تھا۔

سوات میں باپ بیٹی کے قتل پر سوالات اٹھ گئے، مقتول لڑکی نے دو ہفتے قبل پشاور پریس کلب میں تحفظ کی اپیل کی تھی۔

پاکستان نے شام پر امریکی پابندیاں ختم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے شامی معیشت اور علاقائی استحکام کے لیے مثبت قرار دیا۔

بہر حال یہ ایک طویل موضوع ہے اور دنیا اس پر لکھتی رہی ہے اور لکھتی رہے گی کہ کیسے سپر پاور امریکہ 20 سال افغانستان کے پتھروں میں سر پٹختا رہا اور بالآخر ناکام لوٹا

آج سے قبل وہ بنگلہ دیش جو کبھی بھارت کے حکم اور رضا پر سر بسجود ہوا کرتا تھا اب بھارت کی ناراضگی مول لے رہا ہے

نوے ژوند ادبی و فلاحی تنظیم" اسلام آباد کی ادبی و ثقافتی فضا کو سنوارنے اور معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقات کی مدد کرنے والی ایک متحرک اور بااثر ادارہ ہے۔

متواتر نشر ہوتے پاکستانی ڈراموں کا ہدف ہمارے گھر ہیں۔ گھروں کا سکون، رشتوں کا تقدس ،افراد خانہ کی محبت و ہمدردی سب ہی کچھ نشانے پر ہے۔  

چاہے شہر ہو یا گاؤں — اصل طاقت ہمت ہے، اور عورت کو آگے بڑھنے کے لیے مسلسل ہمت وکوشش جاری رکھنی ہو گی۔

امریکا سیاسی، عسکری اور اقتصادی ہر بڑے فیصلے میں براہِ راست مداخلت کرتا رہا۔ آئین کی خلاف ورزی کی، انتخابات کے نتائج خود طے کیے، اور بالآخر افغان حکومت یا دیگر سیاسی دھڑوں کو شامل کیے بغیر سب کچھ طالبان کے حوالے کر دیا۔

پچھلے دنوں اقوام متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیر برائے افغانستان  زلمے خلیل زاد نے پاکستان پہ الزام عائد کیا کہ پاکستان طالبان مخالف عناصر کو پناہ دے رہا ہے جسے پاکستان نے سختی سے مسترد کردیا۔۔ 

یہ وقت ہے کہ ہم حقیقت اور پروپیگنڈے میں فرق سمجھیں۔ دہشت گرد چاہے کسی بھی لبادے میں ہوں، وہ دراصل ریاست اور عوام کے دشمن ہیں

اس عنوان پر اگر ایک عمیق نظر ڈالی جائے تو انسانی ذہن یہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہیکہ آخر وہ کونسی ایسی جدوجہد تھی جسکو حاصل کرلینے پر14 اگست کو تاریخی دن قرار دیا گیا

اس جدو جہد کے نتیجے میں یہاں پیار، محبت، یگانگت کی کونپلیں بھی پھوٹیں۔ کبھی کوئی لسانی یا علاقائی تعصب دیکھنے کو نہ ملا۔ میرے لوگ ۔۔میرے باسی ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے۔