Category: پاکستان

افغانستان کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کو افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پر مستقل تشویش ہے اور ماضی کے وعدے پورے نہ ہونے کے باعث پاکستان نے تحریری ضمانتیں مانگی ہیں۔ انہوں نے حالیہ افغان علما کے “سرحد پار عسکری کارروائیوں کے خلاف فتوے” کو مثبت مگر ناکافی قرار دیا۔

افغانستان کے سرحدی و داخلی چیلنجز کے تناظر میں وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے کابل میں منعقدہ علماء و مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجتماع میں پیش کیا گیا پانچ نکاتی فتویٰ اور لائحۂ عمل پورے ملک کے لیے ایک مضبوط اور جامع منشور ہے۔

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض ایک سفارتی بے احتیاطی نہیں بلکہ ایک خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے۔ اگر آج ایک سفیر کسی سماعت میں شریک ہوتا ہے تو کل کو کسی سیاسی رہنما کے مقدمے میں دوسرے ممالک کے سفرا کی حاضری کا مطالبہ بھی سامنے آ سکتا ہے جو ریاستی خودمختاری کے لیے خطرناک مثال ثابت ہوگا۔

ذرائع کے مطابق یہ تمام خبریں بے بنیاد اور افواہوں پر مبنی ہیں، اور گورنر ہاؤس یا دیگر اہم مقامات پر کسی قسم کی فوجی تعیناتی نہیں کی جا رہی۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے سراسر غلط ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

مقدمے میں ان پر درج ذیل چار الزامات تھے: سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، جو ریاست کی سلامتی اور مفاد کے لیے نقصان دہ تھی، اختیارات اور حکومتی وسائل کا ناجائز استعمال، اور افراد کو غیر ضروری نقصان پہنچانا۔

گزشتہ چند برسوں میں طالبان حکام متعدد بار پاکستان اور عالمی برادری کو اسی قسم کی یقین دہانیاں کرا چکے ہیں، مگر ٹی ٹی پی اور دیگر متعلقہ گروہوں کی سرگرمیاں، حملے اور موجودگی نے ان وعدوں کو غیرموثر بنا دیا ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں اس تازہ فتویٰ کی اہمیت کو پرکھا جائے گا۔

افغانستان کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کو افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پر مستقل تشویش ہے اور ماضی کے وعدے پورے نہ ہونے کے باعث پاکستان نے تحریری ضمانتیں مانگی ہیں۔ انہوں نے حالیہ افغان علما کے “سرحد پار عسکری کارروائیوں کے خلاف فتوے” کو مثبت مگر ناکافی قرار دیا۔

مقدمے میں ان پر درج ذیل چار الزامات تھے: سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، جو ریاست کی سلامتی اور مفاد کے لیے نقصان دہ تھی، اختیارات اور حکومتی وسائل کا ناجائز استعمال، اور افراد کو غیر ضروری نقصان پہنچانا۔

“ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان کا آپس میں مقدس اور گہرا تعلق ہے، اللہ نے تمام مسلم ممالک میں سے محافظینِ حرمین کا شرف پاکستان کو عطا کیا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ ہمارا دفاعی رشتہ تاریخ میں اہم مقام رکھتا ہے۔”

افغان حکومت نے پاکستانی ادویات پر پابندی عائد کر کے داخلی سیاسی دباؤ کا مظاہرہ کیا حالانکہ پاکستانی ادویات پر عوام کا اب بھی اعتماد قائم ہے

پاکستان نے افغان طالبان کے سابق اہلکار قاری سعید خوستی کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ادویات بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار اور برآمد کی جاتی ہیں

عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ عادل راجا کو کل £310,000 ادا کرنا ہوں گے، جس میں £50,000 ہتکِ عزت کے جرمانے اور تقریباً £260,000 عدالتی و قانونی اخراجات شامل ہیں۔ ادائیگی کی آخری تاریخ 22 دسمبر 2025 مقرر کی گئی ہے۔

معاشی محاذ پر بھی ایک مثبت رجحان دکھائی دیا۔ چھ میں سے دس افراد اس بات سے متفق یا جزوی طور پر متفق ہیں کہ حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام اور ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکلنے جیسے مشکل فیصلوں کے ذریعے معاشی استحکام کی کوشش کی ہے۔

یہ واقعہ نہ صرف پاکستان نیوی کی تاریخ بلکہ عالمی بحری جنگی تاریخ میں بھی ایک منفرد اور دبنگ مقام رکھتا ہے کیونکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ کسی روایتی آبدوز نے دشمن کے جنگی جہاز کو حقیقی معرکے میں تباہ کیا۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان ہمسایہ ہونے کے ساتھ ساتھ مذہبی، تاریخی اور سماجی طور پر بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاکہ امن اور خوشحالی کی راہیں کھل سکیں۔

تقریب میں چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف اور چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے علاوہ تینوں سروسز کے سینئر عسکری افسران نے شرکت کی۔