Category: پاکستان

شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟

پاکستان نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بلوچستان کے پنجگور اور چاغی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک، بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا۔

کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد پر خودکش حملے میں 16 افراد شہید اور 40 سے زائد زخمی ہوئے، افغانستان میں موجود گروہ نے ذمہ داری قبول کرلی۔

افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے انٹرویو پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کو اندرونی معاملہ قرار دینے کی کوشش مسترد کرتے ہوئے امن کے لیے سنجیدہ اقدامات پر زور دیا ہے۔

اسلام آباد میں احتجاج روکنے کے لیے سکیورٹی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔

جنگ ستمبر کے 18ویں روز مختلف محاذوں پر شدید لڑائی جاری رہی اور رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کو ٹینکوں اور طیاروں سمیت بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز کے قریب دو دھماکوں میں 21 افراد شہید اور 130 زخمی ہوگئے، جبکہ سکیورٹی فورسز نے 6 دہشت گرد ہلاک کردیے۔

پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کی گرفتاری کی خبریں سراسر بے بنیاد نکلی ہیں، جن کا مقصد 27 ستمبر کے مارچ سے قبل ملک میں سنسنی اور بدامنی پھیلانا تھا۔

نثار کھوڑو نے فیلڈ مارشل سے متعلق اپنے بیان پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے الفاظ کا مفہوم غیر ارادی تھا اور وہ ادارے کے وقار کا احترام کرتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے باہر علیمہ خان کی جانب سے علی محمد خان کو ڈائس سے ہٹانے کی ویڈیو نے پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات اور قیادت کے درمیان کھینچا تانی پر نئی بحث چھیڑ دی۔

عوامی رائے نئے صوبوں کے حق میں ہو تو کوئی حکومت مستقل رکاوٹ نہیں بن سکے گی، اہم مؤقف سامنے آ گیا۔

کوانٹم ویلی پاکستان کے تحت اسلام آباد میں اہم تقریب، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور صنعتی ترقی کے فروغ پر توجہ دی گئی۔

سیاسی جماعتوں کے لانگ مارچز کی کال کے بعد اسلام آباد میں سکیورٹی سخت، ڈی چوک سمیت اہم مقامات پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے۔

جنگِ ستمبر کے 16ویں روز بھارتی فوج کا جانی نقصان 6889 تک پہنچ گیا، جبکہ مختلف محاذوں پر بھارتی ٹینک، فوجی گاڑیاں اور طیارے تباہ کیے گئے۔