اقوام متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دیے گئے حافظ گل بہادر گروپ سے منسلک افغان شہری کے بھارت میں طبی علاج نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور سفارتی تعلقات پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سوات میں پشاور سے آنے والی خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے الزام میں دو پولیس اہلکاروں کی گرفتاری نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ جب محافظ ہی خطرہ بن جائیں تو شہری بھروسا کس پر کریں۔
زلمے خلیل زاد بنیادی طور پر اس ناکام دوحہ سفارت کاری کے معمار ہیں جس نے طالبان حکومت کو سیاسی طور پر بحال کیا اور کابل میں ان کی دوبارہ واپسی کا راستہ ہموار کیا۔ آج جب ان کی اسی ناکام پالیسی کے بھیانک نتائج سامنے آ رہے ہیں، تو وہ کابل انتظامیہ کو کٹہرے میں کھڑا کرنے اور اپنی اس اسٹریٹجک ناکامی کا اعتراف کرنے سے بری طرح بھاگ رہے ہیں۔
حاجی خلیل حقانی نے شدید ذہنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم نے جنگ کے دوران اتنے شہداء کی قربانیاں دیں لیکن ان لرزہ خیز واقعات نے بھی ہمیں اتنا مایوس اور پریشان نہیں کیا جتنا سعید خوستی کی بے شرمی اور شہوت پرستی کے کارناموں نے کیا ہے۔
بی بی سی اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس میں کابل کے امید مرکز پر حملے کے پس منظر میں طالبان کی جانب سے شہری علاقوں کی عسکریت کاری اور انسانی ڈھال کے استعمال کے اہم حقائق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن کی رپورٹ کو پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کر دیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ طالبان نے عسکری تنصیبات شہری علاقوں میں چھپا رکھی ہیں جبکہ یو این اے ایم اے کی رپورٹنگ یکطرفہ ہے۔
دہشت گردی کی سرپرستی: کابل آج ٹی ٹی پی، القاعدہ اور بی ایل اے سمیت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق ٹی ٹی پی کو سرکاری گیسٹ ہاؤسز اور اسلحہ پرمٹس تک میسر ہیں۔
بی بی سی اور اقوام متحدہ کی رپورٹس میں اس واقعے کو صرف شہری نقصان کے طور پر پیش کیا گیا ہے، تاہم زمینی شواہد طالبان کی جانب سے شہری علاقوں میں اسلحہ ڈپو اور عسکری انفراسٹرکچر چھپانے کی خطرناک حکمتِ عملی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
حبیب حکمتیار نے تصدیق کر دی ہے کہ ٹی ٹی پی اور حافظ گل بہادر گروپ امارتِ اسلامی کی پناہ میں ہیں اور افغان طالبان کے ارکان بھی پاکستان کے خلاف جنگ میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔
تقریب کے دوران مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ذمہ دارانہ سفارتکاری، مؤثر ڈیٹرنس، بحران مینجمنٹ اور مذاکراتی عمل ناگزیر ہیں۔ مقررین کے مطابق یہ کتاب نہ صرف “معرکۂ حق” کے مختلف پہلوؤں کو دستاویزی شکل دیتی ہے بلکہ نئی نسل، پالیسی سازوں، محققین اور تزویراتی امور کے طلبہ کے لیے بھی ایک اہم تحقیقی حوالہ ثابت ہوگی۔
بنوں حملے کے تانے بانے افغانستان سے ملنے پر افغان ناظم الامور کی دفترِ خارجہ طلبی؛ پاکستان نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف فیصلہ کن جواب دینے کی وارننگ دے دی۔