Category: جنوبی ایشیا

پشاور کے علاقے حیات آباد میں مسلح افراد نے نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر فہد خان کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ مقتول رکن قومی اسمبلی نور عالم خان کے بھانجے تھے۔

پاکستان کی کوششوں سے سلامتی کونسل نے جنگ کے دوران سفارت کاری اور مذاکرات کی حمایت میں صدارتی بیان اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرلی، ایران جنگ پر ٹرمپ انتظامیہ کے لیے مشکلات بڑھنے کا امکان ہے۔

پاکپتن کی دیپالپور روڈ پر بس اور ٹریلر کے تصادم میں 11 افراد جاں بحق اور 33 زخمی ہوگئے، 6 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

ایبٹ آباد میں حویلیاں کے قریب مسافر بس اور ڈمپر کے تصادم میں 6 افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہوگئے۔

مجموعی طور پر ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال جنوبی اور وسطی ایشیا کی سیاست کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر علاقائی قوتیں اپنے اختلافات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام پر طویل عرصے تک مرتب ہو سکتے ہیں۔

اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ کرنل رینک کے افسر نے اس مقدمے کے اندراج میں اپنا نام آنے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں اتوار کے روز احمدی نژاد شہید ہوگئے ہیں۔

1981 میں ایک بم حملے میں شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ اسی سال صدر منتخب ہوئے۔ 1980 سے جاری ایران عراق جنگ نے ان کے دورِ صدارت کو شکل دی۔ اگرچہ اس وقت زیادہ اختیارات وزیرِ اعظم کے پاس تھے، مگر خامنہ ای نے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے اور دفاعی و سلامتی معاملات میں اپنی گرفت مضبوط کی۔

دونوں جانب سے جانی نقصان کی مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیکڑوں طالبان رجیم کے عسکری اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، جبکہ افغان طالبان نے بھی پاکستانی فوج کی جانب سے شہری علاقوں پر فضائی حملوں اور چوکیوں پر حملوں کا الزام لگایا ہے۔

آماج نیوز کے مطابق پاکستانی جنگی طیاروں نے ہفتہ کی صبح ننگرہار ایئرپورٹ پر بمباری کی ہے، تاہم طالبان نے تاحال اس پر کوئی موقف نہیں دیا

وزیر اطلاعات کے مطابق کارروائیوں میں افغان طالبان رجیم کی 27 پوسٹیں تباہ کی گئیں جبکہ 9 پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو اور ایک لاجسٹک بیس بھی تباہ کیے گئے ہیں۔

طالبان وزارتِ دفاع سے منسوب بیان کے مطابق پکتیا، نورستان، خوست اور ننگرہار سمیت سرحدی علاقوں میں پاکستانی فورسز کے ساتھ شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائیاں مبینہ طور پر “بار بار سرحدی خلاف ورزیوں” کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔

بلوچستان سے اسلام آباد تک دہشت گردی کی حالیہ لہر نے جہاں سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ کیا ہے، وہی بعض سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی جانب سے شدت پسندوں کے بیانیے کی حمایت نے ریاست کے لیے کڑا امتحان پیدا کر دیا ہے

پی ٹی آئی میں موروثی سیاست اور ناتجربہ کار قیادت کے غلبے سے نظریاتی کارکن مایوس؛ شخصی مفادات کے لیے ملکی استحکام کو داؤ پر لگانے کی پالیسی نے بحران پیدا کر دیا