Category: جنوبی ایشیا

آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر دونوں عہدوں پر واضح اکثریت سے کامیاب۔

علی وزیر کے خلاف مختلف اضلاع میں درج مقدمات پر قانونی مؤقف سامنے آیا ہے کہ ایف آئی آر تحقیقات کا ابتدائی مرحلہ ہے جبکہ حتمی فیصلہ شواہد کی بنیاد پر عدالتیں کریں گی۔

بنگلہ دیش نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش ظاہر کر دی۔

جنوبی وزیرستان میں آپریشن 11 گرج کے دوران 6 خوارج ہلاک، خوارج کا اسلحہ اور بارودی مواد کا ذخیرہ برآمد کرکے تباہ کر دیا گیا۔

خستہ حال سڑکیں، پل، اسکول اور ہسپتال خیبرپختونخوا میں بنیادی سہولیات کی صورتحال پر سوال اٹھا رہے ہیں، جبکہ حکومتی ترجیحات بھی زیرِ بحث ہیں۔

ہنگو، بنوں، کرک، ٹانک، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور خیبر میں پولیس اہلکار زیادہ تر حملوں کا نشانہ بنے۔

سکیورٹی فورسز نے لکی مروت میں آپریشن 11 گرج کے دوران خوارج کے اہم کمانڈروں سمیت تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

بدخشاں کے ضلع یافتلِ پایین میں طالبان کی جانب سے مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت کم از کم 7 افراد ہلاک جبکہ 11 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

سابق افغان نیشنل آرمی کی وردی اور جمہوریہ کے سہ رنگی پرچم کے ساتھ سامنے آنے والے جنرل سمیع سادات نے طالبان حکومت کے خلاف مربوط فوجی مہم کے آغاز کا باضابطہ اعلان کر دیا۔

بدخشاں میں طالبان کے آرمی چیف قاری فصیح الدین اور گورنر امان الدین منصور کے درمیان اندرونی کشیدگی کے بعد قاری فصیح کے گھر پر حملہ کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں معاشی بحران اور مہاجرین کی جبری واپسی کے باعث انسانوں کی غیر قانونی ترسیل اور زبردستی مشقت کے خطرات میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔

نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے صوبہ بدخشان میں طالبان کی چوکی پر ہدفی حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے 2 طالبان اہلکاروں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔

بلوچستان کے ضلع کیچ میں دہشت گردوں نے اغوا کیے گئے چھ غیر مقامی مزدوروں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ ماشکیل واقعے کے چند روز بعد ایک اور دلخراش سانحہ۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ نے افغانستان میں طالبان کی سخت گیر پالیسیوں، خواتین و اقلیتوں پر عائد جابرانہ پابندیوں اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

پاک افغان سرحد پر کرم اور پکتیا کے قریب دونوں ممالک کی سرحدی فورسز کے درمیان جھڑپوں اور فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

پشاور میں قومی پیغامِ امن کنونشن میں متفقہ پشاور اعلامیہ منظور کر لیا گیا۔ تمام مکاتبِ فکر کے علماء نے طاقت کے استعمال کا اختیار صرف ریاست کو قرار دے دیا۔