سکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کو بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق فورسز خوارج اور افغان طالبان کی پوسٹوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کو کامیابی سے نشانہ بنا رہی ہیں تاکہ علاقے میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔
افغانستان کے کروڑوں لوگ دو وقت کی روٹی کے محتاج ہیں، جبکہ حکمران اپنے شہریوں کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دینے اور ان کے مفادات کا تحفظ کرنے میں مصروف ہیں۔ ٹی ٹی پی سے اس محبت کی بھاری قیمت افغان عوام کو اپنی معیشت، وقار اور مستقبل کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔
جب پاکستان اور چین کے خلاف بھارت کے پاس پہلے سے ہی کافی دفاعی ہتھیار موجود ہیں، تو پھر اتنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کی کیا ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق علاقائی خطرات کا بہانہ بنا کر بھارت دراصل پوری دنیا کو اپنے نشانے پر لانا چاہتا ہے
طالبان رجیم نے افغانستان کو ایک نظریاتی قید خانہ بنا دیا ہے، جہاں شہری بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ حکمران اپنے شہریوں کی حفاظت کرنے کے بجائے دہشت گرد تنظیموں کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی ثالثی کے ذریعے امریکا کی جانب سے نئی تجاویز موصول ہوئی ہیں، جن کا ایران جائزہ لے رہا ہے اور تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
امریکہ اور ایران کے مابین جنگی خطرات ٹالنے اور مذاکرات کی میزبانی پر عالمی قیادت کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حکمت عملی کو خراجِ تحسین۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ “پاکستان کا شکریہ، اس کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ، دونوں زبردست شخصیات ہیں”،
رائٹرز کے مطابق پاکستان کا آئل ٹینکر ’شالامار‘ متحدہ عرب امارات سے تقریباً 8 کروڑ لیٹر خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے اور کراچی کی جانب گامزن ہے، جہاں وہ دو روز میں پہنچنے کی توقع ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ ڈیل اسلام آباد میں ہوئی تو میں وہاں جا سکتا ہوں، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جنگ بندی میں بہت عمدہ کردار ادا کیا اور پاکستانی قیادت کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک نے امن کے قیام کے لیے اس اقدام پر اتفاق کیا ہے اور یہ پیشرفت حالیہ سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ منگل کو واشنگٹن ڈی سی میں لبنان اور اسرائیل کے نمائندوں کے درمیان 34 سال بعد پہلی ملاقات ہوئی
امریکی صدر نے ایک اور انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ جلد ختم ہونے والی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ان کی مداخلت نہ ہوتی تو ایران اب تک ایٹمی ہتھیار حاصل کر چکا ہوتا، تاہم ان کے اقدامات نے تہران کو اس مقصد سے روک دیا۔