اسکاٹ کیلی کے مطابق حالیہ حملوں کے بعد بی ایل اے پر عالمی توجہ بڑھ رہی ہے، تاہم اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو مالیاتی نیٹ ورکس کی بندش اور بہتر گورننس پر مبنی جامع پالیسی بنانا ہوگی۔
بھارتی فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل راجیش پوار کی وائرل ویڈیو نے پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے بھارتی، اسرائیلی اور افغان گٹھ جوڑ کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر سرگرم عادل راجہ کی جانب سے اسرائیلی اخبار کو انٹرویو دینے اور افواجِ پاکستان کے خلاف سنگین الزامات عائد کرنے کے اعلان کے بعد ملکی دفاعی و سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق انتہا پسندی کی فکری جڑوں کو ختم کیے بغیر محض عسکری کاروائیاں ناگزیر نتائج حاصل نہیں کر سکتیں اور تنظیمیں دوبارہ ابھر سکتی ہیں۔
بھارت کی جانب سے کشن گنگا پروجیکٹ پر ماحولیاتی بہاؤ کی خلاف ورزی اور ڈیٹا کی رازداری سندھ طاس معاہدے کو کمزور اور پاکستان کی آبی سیکیورٹی کو متاثر کر رہی ہے۔
پاکستان پر پے در پے حملوں کا منہ توڑ جواب؛ پاکستانی فورسز کی جوابی فضائی کارروائی میں ہلاک 46 شرپسندوں کی کابل میں نمازِ جنازہ ادا۔ اسلام آباد نے ملکی دفاع کے لیے 'زیرو ٹالرنس' پالیسی کا اعادہ کر دیا
خواتین کو تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے بغیر ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا، اور طالبان کی موجودہ پالیسیاں افغانستان کو عالمی تنہائی اور معاشی بحران کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے پاکستان اور افغانستان سے سرحد پر مستقل جنگ بندی اور تنازعات کے پرامن حل کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ میں 2026 کی حالیہ کشیدگی کے دوران انسانی جانوں کے ضیاع اور شہری نقصان کی تباہی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے
پاکستان کی جانب سے عید کے موقع پر فوجی کاروائیوں میں عارضی تعطل کے باوجود طالبان رہنماء ہیبت اللہ اخوندزادہ نے قندھار میں اشتعال انگیز خطاب کیا ہے، جس میں سرحد پار دہشت گردی کے اصل مسئلے کو نظر انداز کیا گیا ہے
ان کا کہنا ہے کہ اسلامی فقہ کے تحت جہاد دفاعی نوعیت کا ہوتا ہے اور اس کے لیے ریاستی اجازت لازمی ہوتی ہے، جبکہ سرحد پار حملوں کی حمایت اس اصول کے خلاف ہے۔