Category: افغانستان

معروف امریکی جریدے فارن افیئرز نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سنگین بحران میں کامیاب سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تقریباً 100 امریکی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

افغانستان میں طالبان مخالف عسکری تحاریک بدخشاں سے آگے بڑھ کر کاپیسا اور دیگر علاقوں میں اپنی سرگرمیاں تیز کر رہی ہیں۔

نئی دہلی میں نیت پیپر لیک کے خلاف احتجاج کے دوران طلبہ نے بھارتی وزیر تعلیم سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔

ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے اسلام آباد میں پاکستان مونومنٹ اور یادگارِ شہداء کا دورہ کیا اور شہدائے پاکستان کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

متحدہ مدارس کونسل نے پاک فوج اور شہداء کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن کے بیانات کو ان کا ذاتی سیاسی مؤقف قرار دیتے ہوئے مدارس اور علما کے باضابطہ بیانیے سے الگ کر دیا۔

افغانستان میں طالبان کی 'امارات' شرعی معیار پر پورا اترنے میں ناکام؛ ماہرینِ شریعت، عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے موجودہ نظام کو عوامی بیعت کے بجائے 'غاصبانہ قبضہ' قرار دے دیا۔

ملا عمر کے قریبی ساتھی اور سینئر طالبان رہنما ملا معتصم آغاجان کی گرفتاری نے طالبان قیادت میں اندرونی اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے اور امن کوششوں کے لیے رابطے بڑھانے کے الزام میں قندھار میں حراست میں لیا گیا۔

طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر بانی رہنماء اور سابق وزیرِ خزانہ معتصم آغا جان کو قندھار سے گرفتار کر لیا گیا۔

بدخشاں کے ضلع یاوان میں طالبان کے دو دھڑوں کے درمیان مسلح جھڑپ میں 2 ارکان ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا، واقعے کے بعد علاقے میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

مشرقی افغانستان: قبائلی عمائدین کا کابل حکومت کو بائی پاس کر کے پاکستان سے براہِ راست رابطہ، دو ماہ سے بند اہم راستے بحال۔

انجیل ضلع کے قریب ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کا تعلق زیادہ تر شیعہ برادری سے تھا۔ واقعے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ جنازوں میں شریک ہوئے، جہاں طالبان کی جانب سے عوامی احتجاج پر عائد پابندیوں کے باوجود ہجوم جمع ہوا۔

غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق حملہ 12 اپریل کی رات تقریباً 2 بجے کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق حملہ راکٹ فائر کے ذریعے کیا گیا جو تقریباً 12 منٹ تک جاری رہا، جس کے نتیجے میں 4 طالبان اہلکاروں کے ہلاک اور 2 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

خطے میں جاری تبدیلیوں اور چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں فریقین نے علاقائی استحکام اور سفارتی روابط کو مزید بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔

ہرات میں مزار کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ طالبان دورِ حکومت میں آئی ایس کے پی کی بڑھتی ہوئی آپریشنل آزادی اور افغانستان کے دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے کی واضح نشاندہی کرتا ہے

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور سیکیورٹی ادارے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں تاکہ حملے کی نوعیت اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے