معروف امریکی جریدے فارن افیئرز نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سنگین بحران میں کامیاب سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
افغان شہریوں میں مثبت جذبات کی سطح سب سے کم جبکہ منفی جذبات کی سطح بلند ترین رہی۔ خاص طور پر افغان خواتین کی زندگی سے اطمینان کی اوسط شرح صرف 1.26 رہی، جو عالمی سطح پر سب سے کم ہے۔
عالمی جریدے سری لنکا گارڈین نے طالبان کے نظامِ حکومت کو غیر نمائندہ اور آمرانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں طاقت کا مرکز قندھار کا ایک مختصر حلقہ ہے، جہاں اداروں کے بجائے فرمانوں کے ذریعے حکومت چلائی جا رہی ہے
صوبہ نیمروز کے صدر مقام زرنج میں گورنر مولوی عبدالمنان محمود کے قافلے پر عسکریت پسندوں کا حملہ، فائرنگ کے تبادلے میں دو گارڈز مارے گئے۔ نیشنل لبریشن فرنٹ نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی
اہل علاقہ کا ایک جرگہ حاجی ملک دین خان اور بابرزئی کی قیادت میں ہوا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ نئی سڑک کے نقشے میں آنے والے گھروں کو گرانے سے پہلے عمارت اور زمین کا منصفانہ معاوضہ بازار کے نرخ کے مطابق ادا کیا جائے۔ معاوضہ دیے بغیر گھروں کو مسمار کرنا ظلم ہے جس کی مزاحمت کی جائے گی
افغانستان ہیومن رائٹس سینٹر نے اپنی حالیہ رپورٹ میں طالبان پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خواتین کی تعلیم پر پابندی اور صحافیوں پر تشدد کے باعث ملک میں انسانی و معاشی بحران شدت اختیار کر گیا ہے
تجزیہ کاروں کے مطابق ہر سرحدی کارروائی کے بعد شہری ہلاکتوں کے الزامات سامنے آنا ایک تسلسل بن چکا ہے، جبکہ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق یا شواہد اکثر فراہم نہیں کیے جاتے۔
آماج نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی افغانستان میں طالبان نے کالعدم ٹی ٹی پی کے لیے 'پاکستان میں جہاد' کے نام پر فنڈز جمع کرنے کی مہم میں تیزی پیدا کر دی ہے
افغانستان میں طالبان قیادت کی جانب سے نجی اثاثوں پر قبضے اور جبری وصولیوں کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ دوسری جانب کابل میں 'افغانستان لبریشن فرنٹ' کے حملے میں متعدد طالبان اہلکار ہلاک و زخمی ہو گئے ہیں
پاکستان سے غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کے دوران طورخم سرحد سے مزید 705 افغان باشندے ڈی پورٹ کر دیے گئے، جبکہ آج بھی سینکڑوں افراد کی واپسی کا عمل جاری ہے
یہ تقرریاں طالبان کی اندرونی انتظامی حکمت عملی اور سکیورٹی معاملات کو مؤثر بنانے کے سلسلے کا حصہ ہیں، تاہم ان تبدیلیوں کی وجوہات کے حوالے سے باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔