Category: خیبر اور بلوچستان

اسلام آباد میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی میزبانی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور مشترکہ اعلامیہ تیار کر لیا گیا ہے۔

ہٹیاں بالا میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 8 اہم ارکان نے پریس کانفرنس کے دوران تنظیم سے مستقل لاتعلقی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

بلیدہ میں نجی اسکول پر حملے، توڑ پھوڑ اور فائرنگ کے خلاف مقامی آبادی نے شدید احتجاج کیا، فورسز کی آمد پر حملہ آور فرار ہو گئے۔

وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور صوبائی حکومت عوام کے بجائے خارجیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔

کے پی میں دہشتگردی اور منشیات کے مبینہ گٹھ جوڑ نے امن تباہ کر دیا۔ ایک دہائی سے اقتدار پر قابض پی ٹی آئی پولیس فورس کو جدید آلات دینے اور صوبے کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔

افغانستان بھر میں مسلح مزاحمت کا دائرہ پھیل گیا ہے، جہاں طالبان کے انٹیلی جنس اور سکیورٹی مراکز پر حملوں میں درجنوں اہلکار ہلاک ہو گئے۔

باچا خان یونیورسٹی انتظامیہ نے بھارتی ترانہ گانے اور نعرہ بازی کرنے پر فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کے چار طلبہ کا یونیورسٹی سے اخراج کر دیا ہے

اگر ریاست ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے فکری تحفظ اور درست معلومات کی فراہمی میں ناکام رہی، تو انتہا پسند گروہ پسماندگی اور احساسِ محرومی کو ڈھال بنا کر نفرت کا کاروبار چمکاتے رہیں گے۔

افغان صحافی فضل الرحمن اوریاخیل نے 'ٹولو نیوز' پر پاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد کی اپیل کرتے ہوئے بلوچستان، سندھ اور گلگت بلتستان میں علیحدگی پسند سرگرمیوں کی کھلی حمایت کر دی ہے

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کوئٹہ میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ؛ بلوچستان کے لیے 10 ارب روپے کے فنڈز کا اعلان، دشمن کے منفی بیانیے کو شکست دینے کا عزم

خیبر پختونخوا کی جامعات میں مرد اساتذہ اور طالبات کی ملاقات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اب ہر شعبے میں خاتون فیکلٹی ممبر طالبات کے مسائل حل کریں گی

اختر مینگل کے حالیہ بیانات اور بی ایل اے کے پس منظر میں بلوچستان میں سیاسی مفاد پرستی اور ذاتی محرومی کی عکاسی سامنے آئی، جہاں عوامی مسائل کو سیاسی بیانیے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے

فوج میں صوبائی نمائندگی کے حوالے سے میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے محمود اچکزئی کے مؤقف کو مسترد کر دیا

وہ افراد جو بار بار "لاپتہ" قرار دیے جاتے رہے، حقیقت میں گمشدہ نہیں بلکہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کی مسلح کارروائیوں میں سرگرم چھپے ہوئے دہشت گرد ہیں

سکیورٹی حکام کے مطابق بلوچستان بھر میں امن و امان بحال کر دیا گیا ہے، جبکہ دہشت گردی اور بدامنی میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے

میگزین میں بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے فتنۃ الہندوستان کے نیٹ ورک کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات کرتے ہوئے افغانستان کے راستے دراندازی اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کی کمر توڑ دی ہے۔ مختلف علاقوں میں کی جانے والی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور لاجسٹک نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔