Category: مشرق وسطیٰ

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا بدر ایم او یو دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ پیداوار میں تعاون بڑھانے کی اہم پیش رفت ہے۔

سعودی اتحاد نے مکہ ریجن کی جانب آنے والے ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔

چین نے ڈی ایف 61 بین البراعظمی میزائل کو راکٹ فورس میں شامل کرلیا، شمالی کوریا کے نئے تجربات اور جاپان کی جوہری پالیسی بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔

مظفرگڑھ اور فیصل آباد کے افسوسناک واقعات نے رشتوں کے خلوص اور تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں ہم اپنا محافظ اور ہمدرد سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں مددگار ہیں یا مکار؟

اسرائیل میں حکومت سازی کے عمل میں یشار پارٹی کے سربراہ گاڈی آئزنکوٹ کو کنیسٹ کے 67 ارکان کی حمایت حاصل ہو گئی ہے، جس سے بنیامین نیتن یاہو کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے امکانات مزید کم ہو گئے ہیں۔

ایران نے جوہری اور میزائل معاملات پر پاکستان میں امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی تجویز دے دی ہے، جسے وال اسٹریٹ جرنل نے بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا ہے۔

ایران نے جمعرات کی شام 30 اپریل کو اپنا نیا مذاکراتی مسودہ پاکستان کو پیش کیا۔ اس موقع پر ایران نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ہی امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ایران کا واحد سرکاری ثالث رہے گا۔

اسرائیلی فوج نے بحیرہ روم میں غزہ جانے والے سب سے بڑے امدادی بیڑے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ کر کے 7 کشتیاں قبضے میں لے لیں اور متعدد کارکنوں کو ہراساں کیا۔

ایران نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے بدلے امریکی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

متحدہ عرب امارات نے حساس ٹیکنالوجی کی منتقلی پر اختلافات کے باعث فرانس کے ساتھ 5 بلین یورو کے 'سپر رافیل' منصوبے سے علیحدگی اختیار کر لی؛ 80 طیاروں کی خریداری کا پرانا معاہدہ برقرار رہے گا۔

اگر شارجہ کی بیزاری اسی طرح برقرار رہی تو وہ خطے کی دیگر بڑی طاقتوں، جیسے سعودی عرب اور پاکستان کی جانب دیکھ سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اوپیک پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یہ تنظیم تیل کی قیمتیں مصنوعی طور پر بڑھا کر دنیا کا استحصال کر رہی ہے۔

اگر ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان مذاکرات شروع ہوتے ہیں، تو یہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک بہت بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، تہران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات برابری کی بنیاد اور باہمی احترام کے اصولوں پر ہوں گے۔

یہ تاثر سراسر غلط ہے کہ پاکستان کسی ایک فریق یا امریکہ کے دباؤ میں کام کرتا ہے؛ بلکہ پاکستان کی تمام تر کوششیں خالصتاً خطے میں استحکام اور مسلم امہ کے درمیان اتحاد کے فروغ کے لیے رہی ہیں۔

پاکستان نے ہمیشہ امن اور مکالمے کی حمایت کی ہے، جبکہ امجد طہٰ جیسے کرائے کے پروپیگنڈا کرنے والے صرف انارکی اور خون خرابے کے علمبردار ہیں تاکہ اپنے آقاؤں کے سیاسی مقاصد پورے کر سکیں۔