Category: تجزیات

جامعہ دارالعلوم کراچی کے دارالافتاء نے ایک فتویٰ میں واضح کیا ہے کہ اسلام میں لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت پر پابندی کی کوئی مطلق بنیاد موجود نہیں ہے۔

پاک فوج نے باجوڑ کے علاقے گھاکھی میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کر کے 6 دیہات کے 800 سے زائد رہائشیوں کو مفت طبی سہولیات اور ادویات فراہم کر دیں۔

افغان طالبان کے وزیر نور محمد ثاقب نے پاکستان سے تعلقات کی استواری اور بھارت سے زیادہ قربت کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔

بلوچستان کے ضلع پنجگور میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے اہم سرغنہ سمیت 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر کے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کر لیا۔

برطانوی اخبار دی گارڈین میں شائع ہونے والی رپورٹ کے بعد پاکستان اور برطانیہ کے درمیان حوالگیِ ملزمان کی یکطرفہ پالیسی پر ایک بار پھر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تعلقات کو شطرنج کا کھیل قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ امریکا خاموشی سے محدود سطح پر تهران کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھا رہا ہے۔

شانگلہ کے ذہین طالبعلم ابو سفیان نے میٹرک میں 865 نمبر لیے مگر غربت نے اسے کوئلہ کان میں مزدوری پر مجبور کیا جہاں وہ حادثے میں شہید ہو گیا۔

ایک صوبہ ایسا بھی ہے جہاں آٹھ آٹھ گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے، مگر جب وزیراعلیٰ کے ماتھے پر پسینہ آیا تو تین سرکاری ملازمین کی نوکری چلی گئی۔ خیبر پختونخوا کی حکمرانی کا وہ تضاد جو ریاستِ مدینہ کے دعوؤں کی قلعی کھول دیتا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 کے غیر قانونی بھارتی اقدامات کے چھ برس مکمل ہونے پر طویل بندش، ڈومیسائل قوانین، جانی نقصانات اور متاثرہ سیاسی رہنماؤں کی روداد۔

چودہ اگست آزادی کے جشن کے ساتھ خود احتسابی کا دن بھی ہے۔ قیامِ پاکستان کے 79 سال بعد یہ تجزیاتی جائزہ کہ ہم نے کن شعبوں میں کامیابیاں حاصل کیں اور کون سے خواب ابھی تشنہِ تعبیر ہیں۔

سوات کے کبل حملے میں افغان خودکش بمبار کے استعمال اور اس سانحے پر پی ٹی ایم کے ملک دشمن بیانیے نے دشمن کے ناپاک عزائم کو بے نقاب کر دیا ہے۔

برصغیر کے لیے اگست صرف ایک مہینے کا نام نہیں بلکہ یادوں کے لوٹ آنے کا موسم ہے۔ پاکستان اور بھارت کے جشنِ آزادی کے عین درمیان ایک ایسی وادی ہے جس کی تقدیر کا فیصلہ 78 برس بعد بھی باقی ہے۔

خوارج نے ہنگو میں پولیس پر گھات لگا کر وار کیا، کیونکہ میدان میں سامنے آ کر لڑنے کی ہمت ان کے پاس نہیں۔

ہنگو میں پولیس پر حملہ جدید دہشت گردی، سوشل میڈیا بیانیے اور اطلاعاتی جنگ کا حصہ ہے۔ امن کی بحالی کے لیے ذمہ دار صحافت اور قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔

بدخشاں کی بدلتی صورتحال طالبان کی کمزور ہوتی گرفت اور اندرونی اختلافات کی عکاس ہے، جو سرحدی سیکیورٹی کے لیے اہم ہے۔

بلوچستان کے علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں ہونے والا دھماکا ایسے کئی دلالوں کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو دشمن کی لگائی آگ میں اپنے گھر کی لکڑی جھونک رہے ہیں۔