Category: افغانستان

بھارت کی جانب سے کشن گنگا پروجیکٹ پر ماحولیاتی بہاؤ کی خلاف ورزی اور ڈیٹا کی رازداری سندھ طاس معاہدے کو کمزور اور پاکستان کی آبی سیکیورٹی کو متاثر کر رہی ہے۔

گلگت بلتستان انتخابات کے حوالے سے پی ٹی آئی پر خیبر پختونخوا سے کارکنان لانے اور سیاسی ماحول کو متاثر کرنے کے الزامات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان کے بیانات اور عمل میں تضاد ہے اور وہ ٹی ٹی پی کے خلاف تحریری ضمانت دینے سے انکاری ہیں، اس لیے ان پر اعتماد خطرناک ہے۔

بنوں کے علاقے بکا خیل میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے تفتانِ ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر شاہد عرف کمانڈو کا پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے گہرا تعلق اور ماضی کی وابستگی کے دستاویزی شواہد سامنے آئے ہیں۔

سفیر عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں لبنان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا۔

پاکستان اور چین نے افغان سرزمین سے آپریٹ کرنے والی کالعدم تنظیموں ٹی ٹی پی اور ای ٹی آئی ایم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو مزید تیز اور ہم آہنگ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

افغانستان میں طالبان کی 'امارات' شرعی معیار پر پورا اترنے میں ناکام؛ ماہرینِ شریعت، عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے موجودہ نظام کو عوامی بیعت کے بجائے 'غاصبانہ قبضہ' قرار دے دیا۔

ملا عمر کے قریبی ساتھی اور سینئر طالبان رہنما ملا معتصم آغاجان کی گرفتاری نے طالبان قیادت میں اندرونی اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے اور امن کوششوں کے لیے رابطے بڑھانے کے الزام میں قندھار میں حراست میں لیا گیا۔

طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر بانی رہنماء اور سابق وزیرِ خزانہ معتصم آغا جان کو قندھار سے گرفتار کر لیا گیا۔

بدخشاں کے ضلع یاوان میں طالبان کے دو دھڑوں کے درمیان مسلح جھڑپ میں 2 ارکان ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا، واقعے کے بعد علاقے میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

مشرقی افغانستان: قبائلی عمائدین کا کابل حکومت کو بائی پاس کر کے پاکستان سے براہِ راست رابطہ، دو ماہ سے بند اہم راستے بحال۔

انجیل ضلع کے قریب ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کا تعلق زیادہ تر شیعہ برادری سے تھا۔ واقعے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ جنازوں میں شریک ہوئے، جہاں طالبان کی جانب سے عوامی احتجاج پر عائد پابندیوں کے باوجود ہجوم جمع ہوا۔

غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق حملہ 12 اپریل کی رات تقریباً 2 بجے کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق حملہ راکٹ فائر کے ذریعے کیا گیا جو تقریباً 12 منٹ تک جاری رہا، جس کے نتیجے میں 4 طالبان اہلکاروں کے ہلاک اور 2 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

خطے میں جاری تبدیلیوں اور چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں فریقین نے علاقائی استحکام اور سفارتی روابط کو مزید بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔

ہرات میں مزار کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ طالبان دورِ حکومت میں آئی ایس کے پی کی بڑھتی ہوئی آپریشنل آزادی اور افغانستان کے دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے کی واضح نشاندہی کرتا ہے

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور سیکیورٹی ادارے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں تاکہ حملے کی نوعیت اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے