روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔
محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔
دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔
افغانستان فریڈم فرنٹ کا قندوز ایئرپورٹ پر میزائل حملے کا دعویٰ، طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت شدید ہو گئی جبکہ بدخشاں کی طرف طالبان دستوں کی منتقلی متاثر۔
افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے بعد طالبان نے بدخشاں اور قندھار سمیت سات صوبوں میں نئے جنگجوؤں کی بھرتی کا عمل تیز کر دیا ہے۔
افغانستان فریڈم فرنٹ کے سربراہ جنرل یاسین ضیا نے طالبان کے خلاف جدوجہد کا اعادہ کرتے ہوئے ملک میں شفاف انتخابات اور عوام کے سامنے جوابدہ حکومت کے قیام کا مطالبہ کر دیا۔
افغانستان میں سقوطِ کابل کے بعد 2021 سے 2026 تک کے پانچ برسوں میں عسکری منظرنامہ بدل چکا ہے۔ پنجشیر اور بدخشاں جیسے صوبوں میں مسلح مزاحمت تاحال جاری ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین سے سرگرم ہیں اور پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتی ہیں۔