روسی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ایران کے نئے میزائل امریکی دفاعی نظام کو چکما دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے پینٹاگون تشویش میں مبتلا ہے۔ یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا جب اردن میں ایرانی حملے میں 2 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر امریکی فوج نے ایران پر مسلسل آٹھویں رات بھی شدید فضائی حملے کیے ہیں، جس میں آبنائے ہرمز کے قریبی علاقوں اور ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا ایران پر مزید حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور اسرائیل کو درجنوں اضافی ایندھن فراہم کرنے والے طیارے بھیجنے پر غور کر رہا ہے، تاہم ابھی نئے حملوں کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
انڈیا کا مشن چاند اب ایک نئے امتحان سے دوچار ہے کیونکہ بھارتی خلائی ادارہ آئی ایس آر او کے سائنسدان چھوڑ رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں 100 سے 120 سائنسدان آئی ایس آر او چھوڑ چکے ہیں، جس کے بعد حکومت نے استعفوں کی منظوری کا طریقہ مزید سخت کر دیا ہے۔
انہوں نے ایک امکان کے طور پر یہ بات کہی تھی کہ مستقبل میں سعودی عرب کے ساتھ جاری موجودہ تعاون کے دائرہ کار میں ترکی اور قطر جیسے ممالک کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک سفارتی تجویز اور اسٹریٹجک امکان کی گفتگو تھی جسے غلط رنگ دے کر پیش کیا جا رہا ہے۔
دفترِ خارجہ نے سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کو سنسنی خیز قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق نور خان ایئربیس پر طیاروں کی موجودگی سفارتی عملے کی نقل و حمل کے لیے تھی۔
پاکستان نے الجزیرہ کی جانب سے وزیراعظم آفس کے ذرائع سے منسوب خبر کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کو فوجی فیصلے سے متعلق درخواست کے دعوے کی تردید کر دی ہے۔
پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی سے منسوب امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازع میں روسی ثالثی کی خبریں بے بنیاد قرار؛ سفیر نے متعلقہ صحافی سے ملاقات کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹی رپورٹنگ قرار دے دیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دو اعشاریہ چار ارب ڈالر کی خطیر رقم کا دعویٰ حقائق کے برعکس اور حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کی اصل لاگت اس سے کہیں کم ہے، جس کا حتمی تعین تکنیکی جانچ اور کھلی بولی کے بعد ہی ممکن ہو گا۔
بی ایل اے کے خلاف نئے پراکسی محاذ کی تشکیل کے دعوے زمینی حقائق سے متصادم ہیں؛ ماہرین نے اسے انسدادِ دہشت گردی کی جاری کاروائیوں کی غلط تشریح قرار دے دیا۔
بھارتی سیلز نہ صرف خارجہ محاذ پر پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ اندرونِ ملک بھی ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں۔ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر ایسی مشکوک مہمات سے ہوشیار رہیں اور دشمن کے ڈیجیٹل آلہ کار بننے سے گریز کریں۔
اس جعلی پلیٹ فارم نے جھوٹی خبر پھیلائی ہے کہ صدرِ مملکت ایک موذی مرض میں مبتلا ہیں اور ان کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ ساتھ ہی یہ بے بنیاد دعویٰ بھی کیا گیا کہ فوج انہیں مستعفی ہونے اور عہدے سے ہٹانے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔