Category: خیبر اور بلوچستان

بلیدہ میں نجی اسکول پر حملے، توڑ پھوڑ اور فائرنگ کے خلاف مقامی آبادی نے شدید احتجاج کیا، فورسز کی آمد پر حملہ آور فرار ہو گئے۔

وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور صوبائی حکومت عوام کے بجائے خارجیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔

کے پی میں دہشتگردی اور منشیات کے مبینہ گٹھ جوڑ نے امن تباہ کر دیا۔ ایک دہائی سے اقتدار پر قابض پی ٹی آئی پولیس فورس کو جدید آلات دینے اور صوبے کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔

افغانستان بھر میں مسلح مزاحمت کا دائرہ پھیل گیا ہے، جہاں طالبان کے انٹیلی جنس اور سکیورٹی مراکز پر حملوں میں درجنوں اہلکار ہلاک ہو گئے۔

حکومت سے مذاکرات کے بعد پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے، جس میں لانگ مارچ کی تاریخ بڑھانے اور مذاکرات جاری رکھنے پر غور کیا گیا۔

دفتر خارجہ نے بھارتی ناظم الامور کو طلب کر کے ورکنگ باؤنڈری پر بی ایس ایف کی فائرنگ سے 2 پاکستانی شہریوں کے قتل پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

باجوڑ کے ڈمانگی کیمپ حملے کی تحقیقات میں خودکش حملہ آور کی شناخت جلال الدین عرف سجاد (افغان شہری) کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ دیگر ہلاک دہشت گرد بھی افغان قرار دیے گئے ہیں۔

پنجاب اور سندھ کے مقابلے میں خیبر پختونخوا پولیس کا بجٹ کئی گنا زیادہ ہونے کے باوجود فورس وسائل کی کمی کا شکار ہے، جس نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

میجر توصیف احمد بھٹی کا تعلق آرٹلری کی 171 فیلڈ ریجمنٹ سے تھا اور وہ ان دنوں 80 فیلڈ ریجمنٹ میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

فواد چوہدری نے اپنے ردعمل میں واضح کیا کہ اگر فوج اور پولیس نے خیبر پختونخوا چھوڑ دیا تو وہاں بڑے پیمانے پر قتل و غارت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے میں بھارتی اور افغان ایجنسیاں صوبے میں تباہی مچا دیں گی۔

خیبر میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے کلیدی کمانڈر عمر عرف غازی کو ہلاک کر کے دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ تنظیم کے اندر نوجوانوں کو اشتعال انگیز بیانیے کے تحت متحرک کیا جاتا ہے تاکہ انہیں ریاست سے دور کیا جا سکے۔ اپنی سابقہ سرگرمیوں پر شدید ندامت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب وہ اس انتشاری سیاست کا مزید حصہ نہیں رہ سکتیں اور آئینی و قومی دھارے میں رہ کر ملک کی خدمت کرنا چاہتی ہیں۔

لکی مروت کے سرائے نورنگ بازار میں گاڑی کے ذریعے کیے گئے دھماکے میں 7 افراد شہید اور 18 زخمی ہو گئے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں۔

ان بزدلانہ کارروائیوں کے جواب میں پاک فوج نے 'آپریشن رد الفتنہ' کے تحت فیصلہ کن ضرب لگائی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر 225 دہشت گردوں کو واصلِ جہنم کیا جا چکا ہے۔

قلات اور خضدار میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کاروائیوں کے دوران 7 سے زائد دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔

پنجگور کے عاصم لطیف نے بلوچ یکجہتی کمیٹی سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے ریاستِ پاکستان سے وفاداری کا اعلان کر دیا اور بی ایل اے کے دہشت گرد بیانیے کو مسترد کر دیا۔