وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور صوبائی حکومت عوام کے بجائے خارجیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔
کے پی میں دہشتگردی اور منشیات کے مبینہ گٹھ جوڑ نے امن تباہ کر دیا۔ ایک دہائی سے اقتدار پر قابض پی ٹی آئی پولیس فورس کو جدید آلات دینے اور صوبے کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔
حکومت سے مذاکرات کے بعد پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے، جس میں لانگ مارچ کی تاریخ بڑھانے اور مذاکرات جاری رکھنے پر غور کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرتی رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس ناسور کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا حکومت کو ہر ممکنہ عسکری اور انتظامی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔
ضلع مہمند کے علاقے حلیم زئی میں ٹی ٹی پی کے سہولت کار احمد شیر کی گرفتاری کے لیے کیے گئے آپریشن کے دوران پی ٹی ایم کارکنوں نے فورسز پر حملہ کر دیا، جسے پولیس نے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنا دیا۔
بلوچستان میں انڈیا کے خلاف پائے جانے والے شدید جذبات کی بڑی وجہ بھارت کی جانب سے صوبے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی مسلسل کوششیں ہیں۔ 'آپریشن بنیان مرصوص' کی کامیابی نے نہ صرف دفاعی بلکہ نفسیاتی محاذ پر بھی بھارت کو شکستِ فاش دی، جس کے نتیجے میں آج بلوچستان کا بچہ بچہ اپنی ریاست کے بیانیے کے ساتھ کھڑا ہے۔
بلوچستان اپنی ساحلی پٹی، بلند پہاڑوں اور صحراؤں کے باعث سیاحت کے لیے اہم خطہ ہے، جہاں پہلی بار جامع سیاحتی پالیسی اور قانون سازی کے ذریعے اس شعبے کو منظم کیا جا رہا ہے۔
چارسدہ میں اتمانزئی کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس شہید ہو گئے؛ واقعے کے خلاف عوام کا شدید احتجاج، تنگی روڈ بلاک۔
خیبر پختونخوا میں فتنۃ الخوارج کے بزدلانہ ڈرون حملوں اور بھارتی مداخلت کے خلاف پاک فوج کا آپریشن غضب لِلحق کامیابی سے جاری ہے، جس میں اب تک دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کیے جا چکے ہیں۔
مارچ 2011 سے اگست 2025 تک لاپتہ افراد کے تقریباً 10,618 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے ریاست 8,800 سے زائد کیسز کو نمٹا چکی ہے اور 6,800 سے زائد افراد کو ٹریس بھی کیا جا چکا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے اس پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے افغان سرحد پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے طالبان حکومت کی سفاکیت قرار دے دیا؛ باجوڑ میں خواتین اور بچوں سمیت نو شہریوں کی شہادت پر گہری تشویش کا اظہار۔