Category: مشرق وسطیٰ

کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں ملوث ایک خودکش بمبار کی شناخت مطیع اللہ کے نام سے ہوئی ہے جو افغان شہری تھا، جبکہ دوسرے دہشت گرد کی شناخت جاری ہے۔

کوہاٹ پولیس لائنز حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن مکمل، جوابی کارروائی میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، شہادتوں کی تعداد 22 ہوگئی۔

جنگِ ستمبر 1965 کے 19ویں روز سیالکوٹ اور جموں سیکٹر میں 40 بھارتی ٹینک تباہ اور 100 سے زائد بھارتی فوجی جنگی قیدی بنائے گئے۔

شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟

پاکستان نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مجوزہ راستوں میں گوادر، کراچی اور پورٹ قاسم کو پاکستان کے سرحدی مقامات گباد اور تفتان سے ملانے والے روڈ کوریڈورز شامل ہیں۔

ایران نے جوہری اور میزائل معاملات پر پاکستان میں امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی تجویز دے دی ہے، جسے وال اسٹریٹ جرنل نے بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا ہے۔

ایران نے جمعرات کی شام 30 اپریل کو اپنا نیا مذاکراتی مسودہ پاکستان کو پیش کیا۔ اس موقع پر ایران نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ہی امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ایران کا واحد سرکاری ثالث رہے گا۔

اسرائیلی فوج نے بحیرہ روم میں غزہ جانے والے سب سے بڑے امدادی بیڑے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ کر کے 7 کشتیاں قبضے میں لے لیں اور متعدد کارکنوں کو ہراساں کیا۔

ایران نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے بدلے امریکی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

متحدہ عرب امارات نے حساس ٹیکنالوجی کی منتقلی پر اختلافات کے باعث فرانس کے ساتھ 5 بلین یورو کے 'سپر رافیل' منصوبے سے علیحدگی اختیار کر لی؛ 80 طیاروں کی خریداری کا پرانا معاہدہ برقرار رہے گا۔

اگر شارجہ کی بیزاری اسی طرح برقرار رہی تو وہ خطے کی دیگر بڑی طاقتوں، جیسے سعودی عرب اور پاکستان کی جانب دیکھ سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اوپیک پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یہ تنظیم تیل کی قیمتیں مصنوعی طور پر بڑھا کر دنیا کا استحصال کر رہی ہے۔

اگر ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان مذاکرات شروع ہوتے ہیں، تو یہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک بہت بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، تہران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات برابری کی بنیاد اور باہمی احترام کے اصولوں پر ہوں گے۔

یہ تاثر سراسر غلط ہے کہ پاکستان کسی ایک فریق یا امریکہ کے دباؤ میں کام کرتا ہے؛ بلکہ پاکستان کی تمام تر کوششیں خالصتاً خطے میں استحکام اور مسلم امہ کے درمیان اتحاد کے فروغ کے لیے رہی ہیں۔