اقوام متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دیے گئے حافظ گل بہادر گروپ سے منسلک افغان شہری کے بھارت میں طبی علاج نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور سفارتی تعلقات پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سوات میں پشاور سے آنے والی خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے الزام میں دو پولیس اہلکاروں کی گرفتاری نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ جب محافظ ہی خطرہ بن جائیں تو شہری بھروسا کس پر کریں۔
حالیہ دنوں میں باجوڑ، جنوبی وزیرستان اور چمن کے شہری علاقوں کو افغان حدود سے مارٹر گولوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس سے نہ صرف مکانات کو نقصان پہنچا بلکہ عام شہری بھی اس کی زد میں آئے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گولہ باری اس قدر اچانک اور شدید تھی کہ شہریوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا اور زوردار دھماکوں سے پورا علاقہ لرز اٹھا۔ زخمی طالب علم کو فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے ٹی ٹی پی کے افغان دہشت گرد عزت اللہ کی شناخت ہو گئی؛ ہلاک دہشت گرد افغان طالبان کے سابق نائب وزیر مولانا محمد صدیق کا بھتیجا نکلا۔
افغانستان کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنے سفارتی مفادات، نظریاتی بیانیے اور معاشی ضروریات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے، کیونکہ موجودہ حالات میں مستحکم علاقائی تعلقات اس کی بقا کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایک سو تینتیس سالہ تاریخ اور مستند دستاویزات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ سرحدی معاملہ مکمل طور پر طے شدہ ہے۔ انہوں نے افغان سیاسی حلقوں پر زور دیا کہ وہ جذباتی سیاست کے بجائے زمینی حقائق کو تسلیم کریں اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو دیانتداری اور تعاون کی بنیاد پر استوار کریں۔
مڈل ایسٹ آئی کے مطابق پاکستان نے اپنی عسکری ساکھ کو سفارتی طاقت میں بدل کر دنیا کو حیران کر دیا ہے، تاہم یہ بڑھتا ہوا اثر و رسوخ خطے کے لیے ایک نیا اور پیچیدہ اسٹریٹجک چیلنج بھی بن سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف لاہور کی حالیہ رپورٹ نے افغان طالبان کے انٹیلی جنس ڈھانچے کے تحت کام کرنے والے پروپیگنڈا پلیٹ فارم ‘المرصاد’ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ نیٹ ورک مصنوعی ذہانت اور مربوط غلط معلومات کے ذریعے پاکستان کے ریاستی تشخص کو مسخ کرنے اور پاک ایران سفارتی تعلقات میں دراڑ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
دنیا کی ہر خودمختار ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر غیر قانونی طور پر موجود غیر ملکیوں کو واپس بھیجے۔ امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک روزانہ کی بنیاد پر بغیر دستاویزات کے تارکین وطن کو ڈپورٹ کرتے ہیں۔ پاکستان بھی اپنی داخلی سلامتی اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے یہی قانونی عمل کر رہا ہے۔