وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور صوبائی حکومت عوام کے بجائے خارجیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔
کے پی میں دہشتگردی اور منشیات کے مبینہ گٹھ جوڑ نے امن تباہ کر دیا۔ ایک دہائی سے اقتدار پر قابض پی ٹی آئی پولیس فورس کو جدید آلات دینے اور صوبے کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ آئندہ 36 سے 72 گھنٹوں کے دوران تہران کے ساتھ بات چیت کا امکان ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پیش رفت پاکستانی قیادت کی درخواست پر سامنے آئی ہے۔
امریکی صدر پر جوہری کوڈز کے استعمال کی کوشش کا مبینہ الزام؛ وائٹ ہاؤس نے تمام دعوؤں کو 'جھوٹا' قرار دے کر مسترد کر دیا، پینٹاگون کے ایٹمی چیف کی برطرفی کی خبروں نے واشنگٹن میں کھلبلی پیدا کر دی۔
پاکستان سے غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی واپسی کا عمل جاری؛ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ پر حکام کا ردِعمل، چار دہائیوں کی میزبانی کے بعد اب منظم امیگریشن کنٹرول اور عالمی قوانین کے تحت مرحلہ وار واپسی کی پالیسی پر عمل درآمد۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کا خیر مقدم؛ پاکستان کے ثالثی کردار کی مکمل حمایت کا اعلان، ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری کے نئے باب کے آغاز کی امید۔
امیر ممالک کی صنعت کاری کا خمیازہ غریب دنیا نے سیلابوں کی صورت میں بھگتا؛ دہائیوں تک ماحولیاتی سائنس کو دانستہ دبانے کا انکشاف، کلائمیٹ چینج کے حل کے لیے اسلامی اصولوں کی اہمیت پر نئی بحث کا آغاز۔
کُچھ دیر قبل ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’وہ ذاتی حیثیت میں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شکر گزار ہیں کہ جنھوں نے سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کے لیے جنگ بندی میں توسیع کی پاکستانی درخواست کو قبول کیا ہے۔‘
ان اجلاسوں کا مقصد ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل کے حوالے سے آئندہ کی حکمت عملی طے کرنا ہے۔ قبل ازیں توقع کی جا رہی تھی کہ جے ڈی وینس منگل کی صبح اسلام آباد کے لیے روانہ ہو جائیں گے، تاہم اب شیڈول میں تبدیلی کے اشارے مل رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ گزشتہ روز امریکی افواج نے ایران کا ایک بحری جہاز قبضے میں لیا ہے جو ان کے بقول چین کی جانب سے بھیجے گئے سامان سے لدا ہوا تھا۔ اس واقعے کو چینی صدر شی جن پنگ سے جوڑتے ہوئے انہوں نے تند و تیز لہجے میں کہا کہ "جنگ اسی طرح ہوتی ہے" اور اب امریکا ایران میں داخل ہونے کے لیے تیار ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے مذاکرات کا اہم دور کل اسلام آباد میں شروع ہوگا؛ معاہدے کی صورت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت کا بھی امکان ہے۔