ملزم، جس کی شناخت حارث کے نام سے ہوئی، دو خواتین کے ہمراہ گیٹ نمبر 2 سے انکلیو میں داخل ہوا، جس پر پہلے سے اس کی نگرانی کر رہی قانون نافذ کرنے والی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے فوری طور پر کارروائی کی۔
یورپی حکام کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کے ساتھ ترقیاتی شراکت داری کو دوبارہ مضبوط بنانے کی علامت ہے اور اس سے نہ صرف شہری سہولیات میں بہتری آئے گی بلکہ صحتِ عامہ اور ماحولیاتی تحفظ کے اہداف کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی 16 ویں رپورٹ کے مطابق داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ، ترکستان اسلامی پارٹی اور دیگر شدت پسند گروہ افغانستان میں سرگرم ہیں
نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور عراق کے وزیرِ خارجہ فواد محمد حسین کے درمیان ہونے والی گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے تعلقات کو مضبوط کرنے، اعلیٰ سطح کے دوروں اور باہمی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا
افغانستان میں پاکستانی ادویات کے خلاف لگائے گئے الزامات آزاد شواہد سے خالی ہیں اور یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب کابل نے پاکستانی ادویات کی درآمد کم کر کے بھارتی اور ایرانی ذرائع سے فراہمی بڑھائی ہے
آذربائیجان اپنی معاشی اور سیاسی آزادی کو برقرار رکھے گا۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ آذربائیجان کے یوم فتح کی پانچویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت پر بہت خوش ہوں، یوم فتح پر آذر بائیجان کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ تقریب میں تمام دوست ممالک کے نمائندوں اور بالخصوص پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا شکر یہ ادا کرتا ہوں جو آذربائیجان کی خوشی میں شریک ہیں۔
دورے کے دوران افغان وفد کی بھارتی فارماسیوٹیکل کمپنیوں سے ملاقاتیں بھی طے ہیں، جنہیں “افغانستان کی پبلک ہیلتھ سپلائی چین میں شمولیت” کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں بھارتی کمپنی زائیڈس لائف سائنسز اور افغان شراکت داروں کے درمیان 100 ملین ڈالر کے مفاہمتی معاہدے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، جس کے تحت ابتدائی طور پر ادویات کی برآمد اور بعد ازاں مقامی پیداوار و ٹیکنالوجی ٹرانسفر شامل ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ دوہرے معیار کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اگر کسی ریاست یا اس کے شہری بیرونِ ملک تشدد، تخریب کاری یا عدم استحکام میں ملوث پائے جائیں تو شفاف، غیر جانبدار اور بین الاقوامی تحقیقات ناگزیر ہونی چاہئیں۔ مگر جب شواہد کے باوجود خاموشی اختیار کی جائے، تو یہ خاموشی خود ایک سوال بن جاتی ہے۔
افغان قائم مقام وزیرِ توانائی، عبداللطیف منصور کے مطابق، گزشتہ برس کے دوران کمال خان ڈیم (نیمروز)، شاہ و عروس ڈیم (کابل)، پشدان ڈیم (ہرات) اور توری ڈیم (زابل) جیسے منصوبے مکمل یا فعال کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ پانچ برسوں میں 59 بڑے اور درمیانے درجے کے ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ اقدام کسی انتقامی کارروائی نہیں کا حصہ نہیں بلکہ امن واستحکام کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ نیز ہمارا بنیادی ہدف غیر قانونی افراد کی نشاندہی، رجسٹریشن کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کرنا، اور قانونی رہائش کے فریم ورک کو مضبوط بنانا ہے۔
نسٹ راکٹ ٹیم، لمز کے فیکلٹی ممبر اور جی سی یو کے طلبہ سمیت دیگر سابق طلبہ نے بین الاقوامی اعزازات اور ایوارڈز جیت کر پاکستان کی قابلیت اور معیارِ تعلیم واضح کیا
امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی حکمتِ عملی اور طالبان کے مدارس میں نوجوان نسل کی جاری تربیت خطے اور عالمی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہیں
برطانوی دفترِ خارجہ نے سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنے شہریوں کو افغانستان کا سفر نہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ غیر ملکیوں کو درپیش سنگین خطرات کے پیشِ نظر یہ انتباہ جاری کیا گیا
کرغزستان کے سرکاری وفد کے افغانستان کے دورے کے دوران کابل میں کرغزستان ٹریڈ ہاؤس کا افتتاح کیا گیا ہے جس کا مقصد تجارتی تعاون، تبادلے اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے
ایلون مسک دنیا کے امیر ترین شخصیات میں سے ایک ہیں، انہوں نے حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ وہ برسوں کے ملحد رہنے کے بعد اب خدا کے وجود پر یقین رکھتے ہیں اور کائنات کو تخلیق کرنے والی ہستی میں ایمان لائے ہیں
پاکستان کے مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے اے پی ایس سانحہ کے 11 سال مکمل ہونے پر شہدا کو خراج تحسین پیش کیا اور انتہا پسندی و دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاست پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کا اعلان کیا
اہم نکتہ یہ ہے کہ جنگ صرف نقشوں، چارٹس اور اعلیٰ ہیڈکوارٹرز سے نہیں جیتی جاتی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جنگ کا میدان غیر یقینی، افراتفری اور انسانی کمزوریوں سے بھرا ہوتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، سیٹلائٹس اور ڈیجیٹل کمانڈ سسٹمز کے باوجود “جنگ کی دھند” ختم نہیں ہو سکی۔ روس-یوکرین جنگ اس کی تازہ مثال ہے، جہاں جدید نظام جام ہو گئے اور پرانے طریقے دوبارہ اختیار کرنا پڑے۔
مدرسہ فاطمہ اپنے عہد میں بھی آج کی کسی جدید یونیورسٹی سے کم نہ تھا۔ دنیا بھر سے مذہب اور زبان کی قید سے بالاتر ہو کر لوگ یہاں آتے تھے، اور اس دور میں بھی فلکیات، طب اور دیگر جدید علوم یہاں پڑھائے جاتے تھے۔ برصغیر پر انگریز کے تسلط کے بعد بھی مدارس نے علم و شعور کے چراغ روشن رکھے۔ پاکستان میں بھی مدارس کی ایک مضبوط روایت موجود ہے۔
دنیا کا ہر والد یہ چاہتا ہے کہ اپنے حصے کے غم، تکالیف اورصدمے اپنی اولاد کو ورثے میں نہ دئیے جائیں۔ بعض سانحے مگر ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے زخم اور ان سے رستا لہو، ان کی تکلیف اور اس المناک تجربے سے حاصل کردہ سبق ہماری اگلی نسلوں کو بھی منتقل ہونے چاہئیں۔ یہ اس لئے کہ وہ ماضی سے سبق سیکھیں اور اپنے حال اور مستقبل کو خوشگوار، سنہری اور روشن بنا سکیں۔ سولہ دسمبر اکہتر بھی ایسا ہی ایک سبق ہے۔
نوے ژوند ادبی، ثقافتی اور فلاحی تنظیم اسلام آباد کے زیرِ اہتمام اے پی ایس شہداء کو سلام ادب، شمع اور عزمِ امن کے ساتھ 11ویں برسی پر پروقار مشاعرہ و شمع افروزی
سقوطِ ڈھاکہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ریاست کی اصل طاقت بندوق نہیں، بلکہ آئین، پارلیمان، عوامی مینڈیٹ اور مساوی شہری حقوق ہوتے ہیں۔ جب سیاست کو دبایا جاتا ہے تو تاریخ خود کو دہرانے لگتی ہے۔ یہ سانحہ ہمیں خبردار کرتا ہے کہ اگر ہم نے ماضی سے سیکھنے کے بجائے اسے فراموش کر دیا تو زخم بھرنے کے بجائے مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔
بونڈائی بیچ فائرنگ کیس میں تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ ملزم ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا تھا جبکہ پولیس حملہ آوروں کے بیرونی روابط اور محرکات کی تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے
پاکستانی طلبہ نے عالمی مقابلوں میں انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، قانون اور سائنس کے شعبوں میں شاندار کامیابیاں حاصل کر کے پاکستان اور تعلیمی اداروں کا نام روشن کیا
امریکی میگزین دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق طالبان کی تعلیمی اصلاحات نوجوان نسل کو نظریاتی تربیت فراہم کر رہی ہیں، جسکے نتیجے میں تنقیدی سوچ محدود اور عقیدتی اطاعت پروان چڑھ رہی ہے
1970 کے عام انتخابات میں عوامی لیگ کی مشرقی پاکستان میں واضح اکثریت، مغربی حصے میں ناکامی اور اُدھر تم اِدھر ہم کے نعروں نے ملک میں دوریاں بڑھا دیں اور 16 دسمبر 1971 کو المناک سانحہ وقوع پذیر ہوا
سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کی 11ویں برسی کے موقع پر معصوم شہداء کی بے مثال قربانیوں اور دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا
ایران کے اقوامِ متحدہ میں مندوب امیر سعید ایراوانی نے کہا ہے کہ عالمی برادری افغان مہاجرین کے مسئلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث انکا بوجھ ایران اور پاکستان جیسے ممالک پر بڑھ گیا ہے
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 2025 کے دوران پاکستان میں ہونے والے متعدد دہشت گرد حملوں میں افغان شہریوں کی شناخت بھی سامنے آئی ہے، جن میں بعض براہِ راست حملوں میں ملوث پائے گئے جبکہ کچھ افراد سہولت کاری، لاجسٹک سپورٹ اور منصوبہ بندی میں شامل تھے۔
اداکارہ ندا ممتاز کا کہنا ہے کہ شوبز انڈسٹری ماضی کے مقابلے میں بہت بدل چکی ہے کیونکہ دورِ حاضر میں سوشل میڈیا اور شہرت نے معیار اور تربیت کو شدید متاثر کیا ہے
سڈنی واقعہ واضح کرتا ہے کہ انتہا پسندی کی جڑیں صرف سیکیورٹی ناکامی میں نہیں بلکہ نفرت انگیز بیانیے، ذہنی شدت پسندی اور منفی پروپیگنڈے میں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ دہشت گردی کا تعلق کسی مذہب یا قوم سے نہیں بلکہ اس کی بنیاد انسانی نفرت، شدت پسندی اور سیاسی مقاصد کی تکمیل پر ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان مربوط اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں مستقبل میں مزید ملاقاتیں اور تعاون کے منصوبے زیر غور ہیں تاکہ خطے میں اقتصادی ترقی اور سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق پیکس سیلیکا کا مقصد اہم معدنیات، توانائی، ایڈوانس مینوفیکچرنگ، سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس پر مشتمل ایک محفوظ، لچکدار اور ترقی یافتہ سلیکون سپلائی چین قائم کرنا ہے۔ اس اتحاد کو مستقبل کی ہائی ٹیک معیشت کا بنیادی ستون قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق جن تنظیموں نے باضابطہ طور پر خود کو تحلیل کر کے نئی تنظیم میں ضم ہونے کا اعلان کیا ہے، ان میں پدا بلوچ موومنٹ، حرکت النصر بلوچستان، جیش العدل اور جبهت محمد رسول اللہ شامل ہیں۔ ان تنظیموں نے مشترکہ طور پر ایک نئے پلیٹ فارم کے تحت سرگرم ہونے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد تنظیمی ڈھانچے کو یکجا کرنا اور کارروائیوں کو مربوط بنانا بتایا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بلاول بھٹو کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ معیشت ڈنڈے کے زور پر نہیں بلکہ مثبت پالیسیوں اور اصلاحاتی اقدامات سے ترقی کر رہی ہے
رپورٹس کے مطابق جرمنی نے افغانستان کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات بھی محدود کر دیے ہیں، جبکہ افغان طالبان پر دہشت گرد نیٹ ورکس کی سرپرستی کے الزامات نے عالمی برادری میں تشویش بڑھا دی ہے۔ جرمن حکومت کا مؤقف ہے کہ افغان مہاجرین کے حوالے سے اب کوئی نئی انٹری ممکن نہیں۔
ترجمان کے مطابق اس فائر پاور مظاہرے کے دوران پاکستان نیوی کے ایک جنگی جہاز نے نہایت تیز رفتار اور انتہائی چابکدست فضائی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جس سے نیوی کی جنگی صلاحیت، آپریشنل تیاری اور دفاعی مہارت کا عملی مظاہرہ ہوا۔
برطانیہ میں دورانِ ملاقات لارڈ میئر بریڈفورڈ محمد شفیق نے فرخ اویس کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ میرپور میں ان کی کاوشوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں
حکام کے مطابق یہ ایک زیرِ تفتیش معاملہ ہے، اور جیسے ہی مستند معلومات دستیاب ہوں گی، انہیں سرکاری طور پر جاری کیا جائے گا۔ اس مرحلے پر کسی فرد، قومیت یا مذہب کو بغیر تصدیق کے حملے سے جوڑنا نہ صرف غلط بلکہ گمراہ کن بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان نے بھی بونڈائی بیچ پر ہونے والے دہشت گرد حملے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اس دہشت گردی کے واقعے سے شدید رنجیدہ ہے اور آسٹریلیا کی حکومت، عوام اور بالخصوص زخمیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقوں میں کلیئرنس اور سرچ آپریشنز جاری ہیں تاکہ کسی بھی باقی ماندہ بھارتی سرپرستی میں سرگرم خوارج کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف اپنی بھرپور مہم جاری رکھیں گے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق اسلام آباد آئندہ بھی دہشت گردی کے خلاف علاقائی تعاون، مکالمے پر مبنی حل اور مشترکہ سکیورٹی فریم ورک کی حمایت جاری رکھے گا۔ تہران اجلاس میں پاکستان کی فعال شرکت اور طالبان کی عدم موجودگی کے درمیان واضح فرق نے ایک بار پھر پاکستان کے تعمیری کردار اور کابل کی ہچکچاہٹ کو نمایاں کر دیا ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
شہاب اللہ یوسفزئی کے مطابق “بین الاقوامی قانون میں تشدد کا تعین صرف الزامات سے نہیں ہوتا بلکہ آزاد معائنہ، میڈیکل اسیسمنٹ اور عدالتی جانچ لازم ہوتی ہے، جو اس بیان میں موجود نہیں۔”
یہاں سوال انسانی حقوق کے انکار کا نہیں، بلکہ احتساب، تصدیق اور طریقۂ کار کا ہے۔ جب تشدد جیسے سنگین قانونی تصورات کو بغیر عدالتی یا تحقیقی بنیاد کے استعمال کیا جائے تو یہ نہ صرف قانونی معنویت کو کمزور کرتا ہے بلکہ انسانی حقوق کے عالمی نظام کی ساکھ کو بھی متاثر کرتا ہے۔
حالیہ دنوں میں بدخشاں، تخار اور پنجشیر کے مختلف علاقوں میں طالبان کی تنصیبات اور گشت کرنے والے دستوں کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے سامنے آئے ہیں، جن کی ذمہ داری زیادہ تر افغانستان فریڈم فرنٹ اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے قبول کی ہے۔ حال ہی میں این آر ایف کے کابل حملے میں 17 طالبان اہلکار ہوئے تھے جبکہ قندوز اور ہرات میں بھی این آر ایف نے کاروائیاں کی ہیں۔
تاہم، یہ سخت لہجہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل کابل میں طالبان کے اعلیٰ مذہبی علما نے امیرِ طالبان ہیبت اللہ اخوندزادہ کی منظوری سے، ایک مذہبی فتویٰ جاری کیا تھا جس میں واضح طور پر افغانوں کو ہدایت کی گئی کہ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ اس فتویٰ میں تحمل، ذمہ داری اور علاقائی امن پر زور دیا گیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے کو داعش سے منسوب کرتے ہوئے تنظیم کے خلاف سخت جوابی کارروائی کا اعلان کیا۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ حملہ ایک ایسے حساس علاقے میں کیا گیا جو مکمل طور پر شامی ریاست کے کنٹرول میں نہیں، اور خبردار کیا کہ اس کے “سنگین نتائج” ہوں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان رجیم کے دہشتگردانہ عزائم ناصرف خطے بلکہ عالمی امن کیلئے بھی خطرہ ہیں، واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ سے پاکستان کے مؤقف کی بھی تائید ہوگئی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بگرام ایئربیس کی واپسی کا مطالبہ بھی کرچکے ہیں۔
سوڈان اپریل 2023 سے فوج اورآی ایس ایف کے درمیان خونریز خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے، جس میں 40 ہزار سے زائد افراد ہلاک، لاکھوں بے گھر، اور ملک کے کئی حصے قحط کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
نادرا کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ وضاحت میں کہا گیا ہے کہ نہ تو سرگودھا اور نہ ہی ملک کے کسی دوسرے نادرا دفتر میں اس نوعیت کا کوئی نوٹس موجود ہے۔ ادارے نے اس امر پر زور دیا کہ نادرا کا آئینی اور قانونی مینڈیٹ پاکستان کے تمام شہریوں کو بلاامتیاز شناختی خدمات فراہم کرنا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے ماضی میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں، بشمول آئی ایم ایف، سے پاکستان کے لیے مالی معاونت روکنے کی اپیلوں نے ملک کے سیاسی اور سفارتی ماحول پر منفی اثرات مرتب کیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس حکمتِ عملی سے پیدا ہونے والا سیاسی ردِعمل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔
مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ پوسٹ کو حذف کیے جانے کے باوجود نہ کوئی باقاعدہ وضاحت جاری کی گئی، نہ معذرت، اور نہ ہی سورس یا مواد میں تصحیح کی گئی۔ بین الاقوامی صحافتی اصولوں کے مطابق، خاص طور پر ریاست سے منسلک نشریاتی اداروں کے لیے، ایسی خاموشی قابلِ قبول نہیں سمجھی جاتی کیونکہ ان کے مواد کے سفارتی مضمرات بھی ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کا موقف ہے کہ ٹی ٹی پی کی قیادت، تربیت، لاجسٹکس اور آپریشنز کی پناہ گاہیں افغان زمین پر ہیں، جیسا کہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم اور سگار رپورٹس میں بارہا ذکر ہوا ہے۔ پاکستان کے مطابق، حملے سرحد کے پار سے آتے ہیں، اس لیے ذمہ داری کو صرف داخلی معاملے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق متعدد افغان پناہ گزین، جو حالیہ برسوں میں امریکہ-میکسیکو سرحد کے ذریعے داخل ہوئے تھے اور اپنی امیگریشن عدالتوں میں سماعت کے منتظر تھے، اب امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی جانب سے گرفتار کیے جا رہے ہیں۔
افغان وزارتِ خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیاء احمد تکل نے تصدیق کی ہے کہ افغان حکومت کو ایران کی جانب سے دعوت موصول ہوئی تھی، تاہم کابل نے اس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان کے ہمسایہ ممالک سرحد پار سکیورٹی خطرات، بالخصوص دہشت گردی کے پھیلاؤ، پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق کالعدم دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار سے تھا، جو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی ایک ذیلی شاخ ہے۔ حکام کے مطابق تینوں خودکش حملہ آور افغان شہری تھے، جنہوں نے حملے سے قبل پشاور میں چند دن قیام کیا، شہر کے مختلف راستوں کی ریکی کی اور حملے کی منصوبہ بندی مکمل کی۔
ڈیوڈ ولے کے مطابق پی ایس ایل نہ صرف سکیورٹی کے حوالے سے اعتماد فراہم کرتی ہے بلکہ کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے اور میچ کھیلنے کے بہتر مواقع بھی دیتی ہے، جو کسی بھی پروفیشنل کرکٹر کے لیے نہایت اہم ہوتا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ مارچ 2024 سے مارچ 2025 کے دوران اس نے افغانستان کے 19 صوبوں میں 401 ہدفی کارروائیاں کیں، جن میں 651 طالبان ہلاک ہوئے، جبکہ صرف کابل میں 126 حملے کیے گئے۔ اس سے قبل اگست 2021 سے ستمبر 2024 تک دستیاب جزوی اعداد و شمار کے مطابق 236 واقعات میں 904 طالبان ہلاک اور 295 زخمی ہوئے، تاہم ان کارروائیوں میں جبهۂ مقاومتِ ملی کے 113 جنگجو بھی مارے گئے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا نیا خطرہ افغان سرزمین سے سر اٹھا رہا ہے ، عالمی برادری افغان حکومت پر ذمے داریوں کی ادائیگی کے لیے زور ڈالے۔
سابق سفارتکاروں نے بھی اس بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اکثر تصدیق شدہ زمینی حقائق کے بغیر یکطرفہ رپورٹس پر انحصار کرتے ہیں، جو ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر ہر ملک کے عدالتی فیصلوں کو انسانی حقوق کے نام پر سیاسی رنگ دیا جائے تو عالمی نظام انصاف کمزور ہو جائے گا۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق پیکس سیلیکا کا مقصد “اہم معدنیات، توانائی، ایڈوانس مینوفیکچرنگ، سیمی کنڈکٹرز، اے آئی انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس سمیت ایک محفوظ اور ترقی یافتہ سلیکون سپلائی چین کی تشکیل” ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی جانب سے اس نوعیت کی حساس اور اعلیٰ سطحی دفاعی ٹیکنالوجی کی فراہمی پاکستان پر اعتماد کی بحالی کی علامت ہے۔ واشنگٹن یہ تسلیم کر رہا ہے کہ پاکستان خطے میں استحکام، انسدادِ دہشت گردی اور سیکیورٹی تعاون میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل میں برطانیہ کی معاونت پر شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ حکومت ٹیکس اصلاحات، توانائی شعبے کی کارکردگی، سرکاری اداروں کی تنظیم نو، پبلک فنانس مینجمنٹ اور نجکاری جیسے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کر رہی ہے۔
یہ رپورٹ جس میں ’ڈیورنڈ لائن‘ کو فرضی سرحد کے طور پر پیش کیا گیا ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کابل میں 1,000 سے زائد افغان علما نے ایک متفقہ فتویٰ جاری کیا ہے جس میں افغان سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال کرنا “حرام” قرار دیا گیا ہے۔
فلم پاکستان کو ایک منظم دہشت گرد ریاست کے طور پر پیش کرتی ہے، جب کہ جنوبی ایشیا کے سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کے اپنے اندرونی عوامل، بغاوتی تحریکیں، اور بلوچستان میں خفیہ سرگرمیوں کا کردار خطے کی مجموعی پیچیدگیوں کا زیادہ بڑا حصہ ہے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق، اس ادارے میں 600 سے زائد بچے زیرِ تعلیم تھے، اور یہ پورے علاقے میں واحد فعال پرائمری اسکول تھا۔ حکام نے متاثرہ حصوں کو سیل کرکے متبادل تعلیمی بندوبست کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔
جرگہ میں پیش کیے گئے مطالبات میں آپریشن کے مکمل ہونے کے بعد دو ماہ کے اندر عوام کی واپسی اور بحالی، ہر خاندان کو 5 لاکھ روپے ایڈوانس اور ایک لاکھ روپے ماہانہ مالی امداد، تیراہ میدان میں تعلیمی اداروں کی تعمیر، صحت، پانی اور بجلی کی سہولیات کی فراہمی، اور نقصان شدہ زمین و جائیداد کا معاوضہ شامل ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں میں شدت پسند گروہوں کی کارروائیوں نے واضح کر دیا کہ ان کا سب سے بڑا خوف تعلیم یافتہ نسل ہے، وہ نسل جو دلیل، شعور اور ترقی کی طاقت کو پہچانتی ہو۔ 2007 سے 2014 تک طالبان کی جانب سے لڑکیوں کے اسکولوں کو نذرِ آتش کرنا، اساتذہ پر حملے، اور بالآخر سانحۂ اے پی ایس جیسے واقعات اسی ذہنیت کا تسلسل تھے۔
آئی سی سی پراسیکیوٹر کے یہ بیانات محض اندرونی اختلافات نہیں بلکہ عالمی سطح پر سیاسی اثراندازی کے ایسے شواہد ہیں جو غزہ، اسرائیل اور جنگی جرائم کے مقدمات میں عدالتی عمل کی ساکھ کو براہِ راست چیلنج کرتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے بارڈر پر پھنسے ٹرکوں، بند دوکانوں اور پریشان حال افغان تاجروں کی تصویریں تو نمایاں کیں، مگر یہ سوال کمزور پڑ گیا کہ پاکستان نے آخر بارڈر کنٹرول سخت کیوں کیے؟
اجلاس میں پاکستان، چین، روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کی شرکت اس بات کی علامت ہے کہ افغانستان کے مستقبل پر اب خطے کے ممالک براہ راست ذمہ داری سنبھال رہے ہیں اور غیر مغربی دنیا ایک نئی سفارتی حکمت عملی تشکیل دے رہی ہے۔
حالیہ عرصے میں ای ٹی آئی ایم/ای ٹی ایل ایف سے وابستہ شدت پسندوں کے ایک ڈرون حملے میں تاجکستان میں چینی ورکرز کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد بیجنگ نے علاقائی سطح پر ’’ٹرانس نیشنل دہشت گرد نیٹ ورکس‘‘ کی موجودگی اور ان کے بڑھتے خطرے کو غیر معمولی سنجیدگی سے اٹھایا ہے۔
عادل راجہ نے اپنے جرم کو تسلیم کرنے کی بجائے ہٹ دھرمی دکھائی اور زیریں عدالت کے حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا، ہائی کورٹ نے عادل راجہ کی سزائیں بڑھا دیں، جرمانہ میں اضافہ کر دیا اور اسے معافی نامے اپنے تمام سوشل میڈیا پروفائلز پر مسلسل 28 دن تک نمایاں آویزاں رکھنے کا حکم دیا۔
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ناروے کے سفیر کی عدالت میں غیر معمولی شرکت بین الاقوامی سفارتی ضابطوں کی خلاف ورزی ہے اور پاکستان نے ان سے سختی سے کہا کہ آئندہ ایسے اقدامات نہ اٹھائیں۔
افغانستان کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کو افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پر مستقل تشویش ہے اور ماضی کے وعدے پورے نہ ہونے کے باعث پاکستان نے تحریری ضمانتیں مانگی ہیں۔ انہوں نے حالیہ افغان علما کے “سرحد پار عسکری کارروائیوں کے خلاف فتوے” کو مثبت مگر ناکافی قرار دیا۔
افغانستان کے سرحدی و داخلی چیلنجز کے تناظر میں وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے کابل میں منعقدہ علماء و مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجتماع میں پیش کیا گیا پانچ نکاتی فتویٰ اور لائحۂ عمل پورے ملک کے لیے ایک مضبوط اور جامع منشور ہے۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض ایک سفارتی بے احتیاطی نہیں بلکہ ایک خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے۔ اگر آج ایک سفیر کسی سماعت میں شریک ہوتا ہے تو کل کو کسی سیاسی رہنما کے مقدمے میں دوسرے ممالک کے سفرا کی حاضری کا مطالبہ بھی سامنے آ سکتا ہے جو ریاستی خودمختاری کے لیے خطرناک مثال ثابت ہوگا۔
ذرائع کے مطابق یہ تمام خبریں بے بنیاد اور افواہوں پر مبنی ہیں، اور گورنر ہاؤس یا دیگر اہم مقامات پر کسی قسم کی فوجی تعیناتی نہیں کی جا رہی۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے سراسر غلط ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
مقدمے میں ان پر درج ذیل چار الزامات تھے: سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، جو ریاست کی سلامتی اور مفاد کے لیے نقصان دہ تھی، اختیارات اور حکومتی وسائل کا ناجائز استعمال، اور افراد کو غیر ضروری نقصان پہنچانا۔
گزشتہ چند برسوں میں طالبان حکام متعدد بار پاکستان اور عالمی برادری کو اسی قسم کی یقین دہانیاں کرا چکے ہیں، مگر ٹی ٹی پی اور دیگر متعلقہ گروہوں کی سرگرمیاں، حملے اور موجودگی نے ان وعدوں کو غیرموثر بنا دیا ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں اس تازہ فتویٰ کی اہمیت کو پرکھا جائے گا۔
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور پاکستان اپنے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔
امریکی کانگریس مین ٹِم برشیٹ نے افغان طالبان کو مالی معاونت روکنے کے لیے پیش کیے گئے بل کے سینیٹ میں رکنے پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جن میں سینیٹ اسٹافر ٹام ویسٹ کے مبینہ تعلقات اور کچھ ری پبلکن سینیٹرز کے غیر قانونی مالی فوائد شامل ہیں
فتویٰ کے مطابق علمائے کرام نے کہا کہ چونکہ شرعی امیر نے کسی بھی افغان شہری کو بیرونی ملک میں مسلح سرگرمی یا جہاد کی اجازت نہیں دی، اس لیے ایسی کوئی کارروائی ناجائز، حرام اور بغاوت کے زمرے میں آئے گی۔
بیان میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے فوری خاتمے اور ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ افغان عوام کو محفوظ اور باعزت زندگی فراہم کی جا سکے۔
اعلامیے کے مطابق افغانستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنا شرعاً حرام ہے، اور جو شخص اس عہد کی خلاف ورزی کرے گا، وہ ’’عہد شکن‘‘ تصور ہوگا، جبکہ امارت اسلامی کو ایسی خلاف ورزیوں پر کارروائی کا حق حاصل ہے۔
سی پی جے کے مطابق طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پریس فریڈم شدید تنزلی کا شکار ہے۔ تنظیم نے دو صحافیوں، مہدی انصاری اور حمید فرہادی کی فوری رہائی کا خاص طور پر مطالبہ کیا ہے جنہیں کسی شفاف قانونی کارروائی اور جرمانے کے بغیر کئی ماہ سے قید رکھا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کے علاوہ کم از کم نو مزید صحافی بھی طالبان کی خفیہ ایجنسی کی تحویل میں ہیں۔
پاکستان کی تشویش بجا ہے: جب تک افغانستان میں ایسی صورتِ حال برقرار ہے، جنگ زدہ عناصر کے خلاف حقیقی اور شفاف بین الاقوامی مہم ضروری ہے تاکہ نہ صرف افغان عوام کو امن میسر آئے بلکہ پاکستان اور پورے خطے کی سلامتی بھی محفوظ رہے۔
“ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان کا آپس میں مقدس اور گہرا تعلق ہے، اللہ نے تمام مسلم ممالک میں سے محافظینِ حرمین کا شرف پاکستان کو عطا کیا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ ہمارا دفاعی رشتہ تاریخ میں اہم مقام رکھتا ہے۔”
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی رابطوں کی یہ تازہ کوشش اُس وقت سامنے آئی ہے جب طالبان کی جانب سے سیاسی آزادیوں پر سختیاں جاری ہیں اور ملک میں شمولیتی سیاسی عمل کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔
اسی حوالے سے جیش العدل کی جانب سے ایک 5 منٹ اور 32 سیکنڈ کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں ترجمان محمود بلوچ اتحاد کے قیام، مقاصد اور نئی تنظیمی شناخت پر گفتگو کرتے ہیں، تاہم وہ ویڈیو میں شامل گروہوں کی وضاحت نہیں کرتے۔
این آر ایف کا دعویٰ ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں دہشت گرد عناصر کو ان کے ٹھکانوں اور انٹیلی جنس نیٹ ورکس سے علیحدہ کرنے کی کوشش ہیں، تاکہ شہریوں کی حفاظت اور علاقائی امن برقرار رکھا جائے۔
خود کو ‘پرامن سیاسی تحریک’ قرار دینے والی تنظیم بی وائی سی دراصل بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسی کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے لیے “امیج لانڈرنگ” کا کام کر رہی ہے۔
رقم کا دوسرا حصہ، 60 ملین یورو، کراچی میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ اس فنڈنگ سے شہر میں دو بڑے فلٹریشن پلانٹس تعمیر کیے جائیں گے جن کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر 30 کروڑ لیٹر صاف پانی فراہم کیا جائے گا۔
اس تجارتی کامیابی کی بنیادی وجہ گزشتہ سال مئی میں پاک بھارت فضائی تنازع کے دوران ’جے ٹین سی لڑاکا طیاروں کی بہترین کارکردگی ہے۔ پاک فضائیہ نے ان سنگل انجن ملٹی رول طیاروں کو استعمال کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے جدید ترین رافیل اور دیگر طیاروں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا۔
کابل میں ڈاکٹر ملا عبدالواسع اور برطانوی نمائندے کے درمیان اہم ملاقات؛ پاکستان کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے اور باہمی اعتماد سازی کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال۔
آپریشن غضب للحق کے تحت پاک افغان سرحد پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی جارحیت کا بھرپور جواب؛ چمن سیکٹر میں متعدد چوکیاں اور عسکری گاڑیاں تباہ، دشمن پسپا۔
مقبوضہ کشمیر کے مغل خاندان کے دو بھائیوں کی 26 سال کے وقفے سے ہلاکتیں؛ بھارتی فوج کے ہاتھوں راشد مغل کی جعلی مقابلے میں شہادت نے کشمیریوں کے زخم تازہ کر دیے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران میں دہائیوں پر محیط مذہبی قیادت کا غلبہ کمزور پڑ رہا ہے اور پاسدارانِ انقلاب ریاستی فیصلوں میں سب سے طاقتور قوت بن کر ابھرے ہیں۔
افغانستان میں مبلغین کے لیے نئے قانون کا نفاذ؛ فقہ حنفی کی لازمی پیروی اور غیر حنفی مبلغین پر پابندی نے مذہبی تنوع اور اعتدال پسندی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی۔