سوڈان اپریل 2023 سے فوج اورآی ایس ایف کے درمیان خونریز خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے، جس میں 40 ہزار سے زائد افراد ہلاک، لاکھوں بے گھر، اور ملک کے کئی حصے قحط کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
نادرا کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ وضاحت میں کہا گیا ہے کہ نہ تو سرگودھا اور نہ ہی ملک کے کسی دوسرے نادرا دفتر میں اس نوعیت کا کوئی نوٹس موجود ہے۔ ادارے نے اس امر پر زور دیا کہ نادرا کا آئینی اور قانونی مینڈیٹ پاکستان کے تمام شہریوں کو بلاامتیاز شناختی خدمات فراہم کرنا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے ماضی میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں، بشمول آئی ایم ایف، سے پاکستان کے لیے مالی معاونت روکنے کی اپیلوں نے ملک کے سیاسی اور سفارتی ماحول پر منفی اثرات مرتب کیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس حکمتِ عملی سے پیدا ہونے والا سیاسی ردِعمل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔
مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ پوسٹ کو حذف کیے جانے کے باوجود نہ کوئی باقاعدہ وضاحت جاری کی گئی، نہ معذرت، اور نہ ہی سورس یا مواد میں تصحیح کی گئی۔ بین الاقوامی صحافتی اصولوں کے مطابق، خاص طور پر ریاست سے منسلک نشریاتی اداروں کے لیے، ایسی خاموشی قابلِ قبول نہیں سمجھی جاتی کیونکہ ان کے مواد کے سفارتی مضمرات بھی ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کا موقف ہے کہ ٹی ٹی پی کی قیادت، تربیت، لاجسٹکس اور آپریشنز کی پناہ گاہیں افغان زمین پر ہیں، جیسا کہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم اور سگار رپورٹس میں بارہا ذکر ہوا ہے۔ پاکستان کے مطابق، حملے سرحد کے پار سے آتے ہیں، اس لیے ذمہ داری کو صرف داخلی معاملے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق متعدد افغان پناہ گزین، جو حالیہ برسوں میں امریکہ-میکسیکو سرحد کے ذریعے داخل ہوئے تھے اور اپنی امیگریشن عدالتوں میں سماعت کے منتظر تھے، اب امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی جانب سے گرفتار کیے جا رہے ہیں۔
افغان وزارتِ خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیاء احمد تکل نے تصدیق کی ہے کہ افغان حکومت کو ایران کی جانب سے دعوت موصول ہوئی تھی، تاہم کابل نے اس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان کے ہمسایہ ممالک سرحد پار سکیورٹی خطرات، بالخصوص دہشت گردی کے پھیلاؤ، پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق کالعدم دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار سے تھا، جو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی ایک ذیلی شاخ ہے۔ حکام کے مطابق تینوں خودکش حملہ آور افغان شہری تھے، جنہوں نے حملے سے قبل پشاور میں چند دن قیام کیا، شہر کے مختلف راستوں کی ریکی کی اور حملے کی منصوبہ بندی مکمل کی۔
ڈیوڈ ولے کے مطابق پی ایس ایل نہ صرف سکیورٹی کے حوالے سے اعتماد فراہم کرتی ہے بلکہ کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے اور میچ کھیلنے کے بہتر مواقع بھی دیتی ہے، جو کسی بھی پروفیشنل کرکٹر کے لیے نہایت اہم ہوتا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ مارچ 2024 سے مارچ 2025 کے دوران اس نے افغانستان کے 19 صوبوں میں 401 ہدفی کارروائیاں کیں، جن میں 651 طالبان ہلاک ہوئے، جبکہ صرف کابل میں 126 حملے کیے گئے۔ اس سے قبل اگست 2021 سے ستمبر 2024 تک دستیاب جزوی اعداد و شمار کے مطابق 236 واقعات میں 904 طالبان ہلاک اور 295 زخمی ہوئے، تاہم ان کارروائیوں میں جبهۂ مقاومتِ ملی کے 113 جنگجو بھی مارے گئے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا نیا خطرہ افغان سرزمین سے سر اٹھا رہا ہے ، عالمی برادری افغان حکومت پر ذمے داریوں کی ادائیگی کے لیے زور ڈالے۔
سابق سفارتکاروں نے بھی اس بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اکثر تصدیق شدہ زمینی حقائق کے بغیر یکطرفہ رپورٹس پر انحصار کرتے ہیں، جو ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر ہر ملک کے عدالتی فیصلوں کو انسانی حقوق کے نام پر سیاسی رنگ دیا جائے تو عالمی نظام انصاف کمزور ہو جائے گا۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق پیکس سیلیکا کا مقصد “اہم معدنیات، توانائی، ایڈوانس مینوفیکچرنگ، سیمی کنڈکٹرز، اے آئی انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس سمیت ایک محفوظ اور ترقی یافتہ سلیکون سپلائی چین کی تشکیل” ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی جانب سے اس نوعیت کی حساس اور اعلیٰ سطحی دفاعی ٹیکنالوجی کی فراہمی پاکستان پر اعتماد کی بحالی کی علامت ہے۔ واشنگٹن یہ تسلیم کر رہا ہے کہ پاکستان خطے میں استحکام، انسدادِ دہشت گردی اور سیکیورٹی تعاون میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل میں برطانیہ کی معاونت پر شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ حکومت ٹیکس اصلاحات، توانائی شعبے کی کارکردگی، سرکاری اداروں کی تنظیم نو، پبلک فنانس مینجمنٹ اور نجکاری جیسے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کر رہی ہے۔
یہ رپورٹ جس میں ’ڈیورنڈ لائن‘ کو فرضی سرحد کے طور پر پیش کیا گیا ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کابل میں 1,000 سے زائد افغان علما نے ایک متفقہ فتویٰ جاری کیا ہے جس میں افغان سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال کرنا “حرام” قرار دیا گیا ہے۔
فلم پاکستان کو ایک منظم دہشت گرد ریاست کے طور پر پیش کرتی ہے، جب کہ جنوبی ایشیا کے سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کے اپنے اندرونی عوامل، بغاوتی تحریکیں، اور بلوچستان میں خفیہ سرگرمیوں کا کردار خطے کی مجموعی پیچیدگیوں کا زیادہ بڑا حصہ ہے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق، اس ادارے میں 600 سے زائد بچے زیرِ تعلیم تھے، اور یہ پورے علاقے میں واحد فعال پرائمری اسکول تھا۔ حکام نے متاثرہ حصوں کو سیل کرکے متبادل تعلیمی بندوبست کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔
جرگہ میں پیش کیے گئے مطالبات میں آپریشن کے مکمل ہونے کے بعد دو ماہ کے اندر عوام کی واپسی اور بحالی، ہر خاندان کو 5 لاکھ روپے ایڈوانس اور ایک لاکھ روپے ماہانہ مالی امداد، تیراہ میدان میں تعلیمی اداروں کی تعمیر، صحت، پانی اور بجلی کی سہولیات کی فراہمی، اور نقصان شدہ زمین و جائیداد کا معاوضہ شامل ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں میں شدت پسند گروہوں کی کارروائیوں نے واضح کر دیا کہ ان کا سب سے بڑا خوف تعلیم یافتہ نسل ہے، وہ نسل جو دلیل، شعور اور ترقی کی طاقت کو پہچانتی ہو۔ 2007 سے 2014 تک طالبان کی جانب سے لڑکیوں کے اسکولوں کو نذرِ آتش کرنا، اساتذہ پر حملے، اور بالآخر سانحۂ اے پی ایس جیسے واقعات اسی ذہنیت کا تسلسل تھے۔
آئی سی سی پراسیکیوٹر کے یہ بیانات محض اندرونی اختلافات نہیں بلکہ عالمی سطح پر سیاسی اثراندازی کے ایسے شواہد ہیں جو غزہ، اسرائیل اور جنگی جرائم کے مقدمات میں عدالتی عمل کی ساکھ کو براہِ راست چیلنج کرتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے بارڈر پر پھنسے ٹرکوں، بند دوکانوں اور پریشان حال افغان تاجروں کی تصویریں تو نمایاں کیں، مگر یہ سوال کمزور پڑ گیا کہ پاکستان نے آخر بارڈر کنٹرول سخت کیوں کیے؟
اجلاس میں پاکستان، چین، روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کی شرکت اس بات کی علامت ہے کہ افغانستان کے مستقبل پر اب خطے کے ممالک براہ راست ذمہ داری سنبھال رہے ہیں اور غیر مغربی دنیا ایک نئی سفارتی حکمت عملی تشکیل دے رہی ہے۔
حالیہ عرصے میں ای ٹی آئی ایم/ای ٹی ایل ایف سے وابستہ شدت پسندوں کے ایک ڈرون حملے میں تاجکستان میں چینی ورکرز کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد بیجنگ نے علاقائی سطح پر ’’ٹرانس نیشنل دہشت گرد نیٹ ورکس‘‘ کی موجودگی اور ان کے بڑھتے خطرے کو غیر معمولی سنجیدگی سے اٹھایا ہے۔
عادل راجہ نے اپنے جرم کو تسلیم کرنے کی بجائے ہٹ دھرمی دکھائی اور زیریں عدالت کے حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا، ہائی کورٹ نے عادل راجہ کی سزائیں بڑھا دیں، جرمانہ میں اضافہ کر دیا اور اسے معافی نامے اپنے تمام سوشل میڈیا پروفائلز پر مسلسل 28 دن تک نمایاں آویزاں رکھنے کا حکم دیا۔
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ناروے کے سفیر کی عدالت میں غیر معمولی شرکت بین الاقوامی سفارتی ضابطوں کی خلاف ورزی ہے اور پاکستان نے ان سے سختی سے کہا کہ آئندہ ایسے اقدامات نہ اٹھائیں۔
افغانستان کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کو افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پر مستقل تشویش ہے اور ماضی کے وعدے پورے نہ ہونے کے باعث پاکستان نے تحریری ضمانتیں مانگی ہیں۔ انہوں نے حالیہ افغان علما کے “سرحد پار عسکری کارروائیوں کے خلاف فتوے” کو مثبت مگر ناکافی قرار دیا۔
افغانستان کے سرحدی و داخلی چیلنجز کے تناظر میں وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے کابل میں منعقدہ علماء و مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجتماع میں پیش کیا گیا پانچ نکاتی فتویٰ اور لائحۂ عمل پورے ملک کے لیے ایک مضبوط اور جامع منشور ہے۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض ایک سفارتی بے احتیاطی نہیں بلکہ ایک خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے۔ اگر آج ایک سفیر کسی سماعت میں شریک ہوتا ہے تو کل کو کسی سیاسی رہنما کے مقدمے میں دوسرے ممالک کے سفرا کی حاضری کا مطالبہ بھی سامنے آ سکتا ہے جو ریاستی خودمختاری کے لیے خطرناک مثال ثابت ہوگا۔
ذرائع کے مطابق یہ تمام خبریں بے بنیاد اور افواہوں پر مبنی ہیں، اور گورنر ہاؤس یا دیگر اہم مقامات پر کسی قسم کی فوجی تعیناتی نہیں کی جا رہی۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے سراسر غلط ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
مقدمے میں ان پر درج ذیل چار الزامات تھے: سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، جو ریاست کی سلامتی اور مفاد کے لیے نقصان دہ تھی، اختیارات اور حکومتی وسائل کا ناجائز استعمال، اور افراد کو غیر ضروری نقصان پہنچانا۔
گزشتہ چند برسوں میں طالبان حکام متعدد بار پاکستان اور عالمی برادری کو اسی قسم کی یقین دہانیاں کرا چکے ہیں، مگر ٹی ٹی پی اور دیگر متعلقہ گروہوں کی سرگرمیاں، حملے اور موجودگی نے ان وعدوں کو غیرموثر بنا دیا ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں اس تازہ فتویٰ کی اہمیت کو پرکھا جائے گا۔
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور پاکستان اپنے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔
امریکی کانگریس مین ٹِم برشیٹ نے افغان طالبان کو مالی معاونت روکنے کے لیے پیش کیے گئے بل کے سینیٹ میں رکنے پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جن میں سینیٹ اسٹافر ٹام ویسٹ کے مبینہ تعلقات اور کچھ ری پبلکن سینیٹرز کے غیر قانونی مالی فوائد شامل ہیں
فتویٰ کے مطابق علمائے کرام نے کہا کہ چونکہ شرعی امیر نے کسی بھی افغان شہری کو بیرونی ملک میں مسلح سرگرمی یا جہاد کی اجازت نہیں دی، اس لیے ایسی کوئی کارروائی ناجائز، حرام اور بغاوت کے زمرے میں آئے گی۔
بیان میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے فوری خاتمے اور ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ افغان عوام کو محفوظ اور باعزت زندگی فراہم کی جا سکے۔
اعلامیے کے مطابق افغانستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنا شرعاً حرام ہے، اور جو شخص اس عہد کی خلاف ورزی کرے گا، وہ ’’عہد شکن‘‘ تصور ہوگا، جبکہ امارت اسلامی کو ایسی خلاف ورزیوں پر کارروائی کا حق حاصل ہے۔
سی پی جے کے مطابق طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پریس فریڈم شدید تنزلی کا شکار ہے۔ تنظیم نے دو صحافیوں، مہدی انصاری اور حمید فرہادی کی فوری رہائی کا خاص طور پر مطالبہ کیا ہے جنہیں کسی شفاف قانونی کارروائی اور جرمانے کے بغیر کئی ماہ سے قید رکھا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کے علاوہ کم از کم نو مزید صحافی بھی طالبان کی خفیہ ایجنسی کی تحویل میں ہیں۔
پاکستان کی تشویش بجا ہے: جب تک افغانستان میں ایسی صورتِ حال برقرار ہے، جنگ زدہ عناصر کے خلاف حقیقی اور شفاف بین الاقوامی مہم ضروری ہے تاکہ نہ صرف افغان عوام کو امن میسر آئے بلکہ پاکستان اور پورے خطے کی سلامتی بھی محفوظ رہے۔
“ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان کا آپس میں مقدس اور گہرا تعلق ہے، اللہ نے تمام مسلم ممالک میں سے محافظینِ حرمین کا شرف پاکستان کو عطا کیا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ ہمارا دفاعی رشتہ تاریخ میں اہم مقام رکھتا ہے۔”
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی رابطوں کی یہ تازہ کوشش اُس وقت سامنے آئی ہے جب طالبان کی جانب سے سیاسی آزادیوں پر سختیاں جاری ہیں اور ملک میں شمولیتی سیاسی عمل کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔
اسی حوالے سے جیش العدل کی جانب سے ایک 5 منٹ اور 32 سیکنڈ کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں ترجمان محمود بلوچ اتحاد کے قیام، مقاصد اور نئی تنظیمی شناخت پر گفتگو کرتے ہیں، تاہم وہ ویڈیو میں شامل گروہوں کی وضاحت نہیں کرتے۔
این آر ایف کا دعویٰ ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں دہشت گرد عناصر کو ان کے ٹھکانوں اور انٹیلی جنس نیٹ ورکس سے علیحدہ کرنے کی کوشش ہیں، تاکہ شہریوں کی حفاظت اور علاقائی امن برقرار رکھا جائے۔
رواں سال امریکہ کی بڑی ٹیک فرمز نے بھارت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جو کلاؤڈ، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیپ ٹیک کی ترقی کے لیے ملک کے ایک اسٹریٹجک مرکز کے طور پر ابھرنے کو اجاگر کرتا ہے۔
جنرل طارق خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ڈیورنڈ لائن کو یہ مانتے نہیں ہیں۔ افغانستان میں پختون کم ہیں اور پاکستان میں زیادہ ہیں۔ تو پھر یہ سرحد اٹھا کر آمو (سنٹرل ایشیا) پر ہی لے جاتے ہیں۔ ریٹائرڈ فوجی شاید سیکیورٹی فورسز کی ایک 3 اور ایک 2 کے تناسب سے دی جانے والی جان کی قربانیوں کو دیکھ کر بولنا شروع ہوئے ہیں۔
ایبٹ آباد تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ کو زیور واپس کرنے سے روکنا ایک خوفناک واردات کا سبب بنا اور اب اس بات پر بھی تفتیش ہو رہی ہے کہ ملزمہ کا شوہر قتل کی سازش میں شریک تھا یا نہیں۔
بولٹن میں افغان شہری بکتاش سلطانی پر دو خواتین سے جنسی زیادتی کا مقدمہ چل رہا ہے، جبکہ اس سے قبل دو افغان پناہ گزین 15 سالہ بچی سے اجتماعی زیادتی کے جرم میں پکڑے گئے تھے
نتالی بیکر کے مطابق، یہ شراکت داری پاکستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مضبوط کرے گی، اور بلوچستان جیسے پسماندہ خطے میں انفراسٹرکچر اور روزگار فراہم کر کے معاشی استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس قیادت کے خلاء نے ان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے کہ افغانستان جیسے نازک ملک میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال اور سیاسی جمود کے باوجود یوناما کس حد تک اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔
این آر ایف کا دعویٰ ہے کہ ان کی کارروائیاں صرف دشمن کے ٹھکانوں کے خلاف ہیں اور عام شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے، تاہم افغانستان میں جاری مسلسل عدم استحکام اور عسکری سرگرمیوں سے خطے میں سکیورٹی چیلنجز بڑھ رہے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جو کسی ایک جماعت، دور یا ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ متاع ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر سلطان بشیر محمود (ستارۂ امتیاز) انہی ناموں میں شامل ہیں۔ وہ محض ایک ایٹمی سائنس دان نہیں بلکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے ان بنیاد گزاروں میں سے ہیں جن کی دہائیوں پر محیط خاموش، مسلسل اور بے مثال محنت نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔
انسانی حقوق اور قومی سکیورٹی کو ایک دوسرے کا دشمن بنانے کی ضرورت نہیں۔ پائیدار سکیورٹی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کا اعتماد رکھے، اور شہری ریاست پر بھروسہ قائم کریں۔ یہی توازن پاکستان کے لیے عالمی برادری میں اپنی بات منوانے کے لیے ضروری ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب کابل پر ان گروہوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے بین الاقوامی دباؤ بڑھتا ہے تو وہ معلومات اور حقائق کو مسخ کرکے پیش کرتے ہیں اور الزامات کا رخ پاکستان کی جانب موڑ دیتا ہے۔ لہذا تمام تر شواہد اور حقائق یہی ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان آج دنیا کے سب سے زیادہ غیر ملکی جنگجوؤں کے محفوظ ٹھکانوں کا مرکز بن چکا ہے۔
پاکستان نے افغان طالبان کے سابق اہلکار قاری سعید خوستی کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ادویات بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار اور برآمد کی جاتی ہیں
بغلان میں طالبان کے فرنگ ضلع کے ڈسٹرکٹ چیف شبیراحمد کو 17 نومبر کو ان کے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کرلیا گیا۔ شبیراحمد پشتون ہونے کے باوجود مقامی تاجک طالبان سے تعاون رکھتے تھے اور انہیں مقامی زمین اور وسائل قندھار و ہلمند کے کمانڈروں کے حوالے کرنے پر اعتراض تھا۔
بل میں یہ شق بھی شامل ہے کہ نیٹو کے سپریم ایلائیڈ کمانڈر یورپ کا عہدہ ہمیشہ ایک امریکی افسر کے پاس رہے گا جبکہ یوکرین کی معاونت کے لیے 400 ملین ڈالر کی اضافی رقم بھی منظور کی گئی ہے۔ بل کی حتمی منظوری اسی ہفتے متوقع ہے۔
تاہم مقامی تاجروں اور ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ روس اور دیگر راستوں سے تجارت نہ صرف مہنگی اور مشکل ہے بلکہ دیرپا بھی نہیں ہے اور جلد افغانستان کو دوبارہ پاکستان کی جانب رخ کرنا پڑے گا۔
عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ عادل راجا کو کل £310,000 ادا کرنا ہوں گے، جس میں £50,000 ہتکِ عزت کے جرمانے اور تقریباً £260,000 عدالتی و قانونی اخراجات شامل ہیں۔ ادائیگی کی آخری تاریخ 22 دسمبر 2025 مقرر کی گئی ہے۔
حکم نامے کے مطابق ملک و ریاست کی سکیورٹی اور قانون و آئین کے خلاف خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ گورنر کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ریاست کے شہریوں کی حفاظت اور “شدت پسند نظریات” کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق یہ صدر سوبیانتو کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے، جو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
معاشی محاذ پر بھی ایک مثبت رجحان دکھائی دیا۔ چھ میں سے دس افراد اس بات سے متفق یا جزوی طور پر متفق ہیں کہ حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام اور ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکلنے جیسے مشکل فیصلوں کے ذریعے معاشی استحکام کی کوشش کی ہے۔
افغان وزیر داخلہ خلیفہ سراج الدین حقانی نے قازقستانی صدر کے خصوصی نمائندے یرکین توکوموف سے ملاقات کی، جس میں باہمی تعلقات، تجارت اور اقتصادی منصوبوں کو فروغ دینے پر تبادلۂ خیال کیا گیا
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ علی نذاری نے کہا ہے کہ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے نام پر کیے جانے والے حملے اصل میں افغان طالبان اور القاعدہ کے جنگجوؤں کے ذریعے کیے جاتے ہیں
دکھ اس بات کا ہے کہ عالمی طاقتیں ظلم کو اپنی سیاسی ترجیحات کی کسوٹی پر پرکھتی ہیں۔ کہیں یہ قتلِ عام "سکیورٹی" کے نام پر جائز ٹھہرتا ہے اور کہیں اسے "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کی آڑ ملتی ہے۔
وزیرِاعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت موسمیاتی پالیسی تشکیل دے رہی ہے جبکہ بلوچستان کو بیک وقت سیلاب اور خشک سالی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی نے بشارالاسد کی مشیر لونا الشبل پر جاسوسی کا الزام لگایا تھا، اسی بنیاد پر قاسم سلیمانی اور شام کے سیکیورٹی چیف علی مملوک کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوئی
یہ واقعہ نہ صرف پاکستان نیوی کی تاریخ بلکہ عالمی بحری جنگی تاریخ میں بھی ایک منفرد اور دبنگ مقام رکھتا ہے کیونکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ کسی روایتی آبدوز نے دشمن کے جنگی جہاز کو حقیقی معرکے میں تباہ کیا۔
قسط کے ملنے سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو تقویت ملے گی، درآمدات اور قرض کی ادائیگی آسان ہوگی جبکہ موسمیاتی منصوبوں کے لیے اضافی وسیلہ بھی دستیاب ہوگا۔ تاہم، آئی ایم ایف کے مطابق استحکام اور قرض کی فراہمی کے باوجود، اصلاحات جاری رکھنا جیسے مالی نظم و ضبط، ٹیکس بنیاد کی توسیع، سرکاری اداروں میں اصلاحات، توانائی شعبے کی بہتری اور موسمیاتی لچک ناگزیر ہیں۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، جان جہانزیب کو 10 سال اور 8 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے، جبکہ اسرار نیازل کو 9 سال اور 10 ماہ قید کی سزا ملی۔ دونوں نوجوانوں نے عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا۔
واضح رہے کہ گلبدین حکمتیار نے 2016 میں افغان حکومت کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا اور گزشتہ چار سال کے دوران کابل میں سیاسی کردار ادا کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ طالبان کی واپسی کے بعد افغانستان میں سیاسی اختلاف رائے کے لیے گنجائش سکڑتی جا رہی ہے۔
قانت نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ وسیع تر مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے دیرپا بنیادوں پر بات چیت کریں، بصورتِ دیگر علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں پر سے اعتماد ختم ہونا شروع ہو جائے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان ہمسایہ ہونے کے ساتھ ساتھ مذہبی، تاریخی اور سماجی طور پر بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاکہ امن اور خوشحالی کی راہیں کھل سکیں۔
ازبکستان کے سفیر علی شیر تختائف نے آر کے اسپورٹس مینجمنٹ کے چیف ایگزیکٹو سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں اسپورٹس کے شعبے میں نمایاں مقام رکھتا ہے اور پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے ازبکستان میں کھیلنے کے متعدد مواقع موجود ہیں
تقریب میں چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف اور چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے علاوہ تینوں سروسز کے سینئر عسکری افسران نے شرکت کی۔
رپورٹ کے مطابق طالبان کی افغانستان پر گرفت نے امریکی سامان کی نگرانی ممکن نہ رہنے دی، جس کی وجہ سے یہ ہتھیار اور سازوسامان طالبان کے کنٹرول میں چلے گئے۔ امریکی محکمہ دفاع نے بھی تصدیق کی کہ تقریباً 7.1 ارب ڈالر مالیت کا سازوسامان جس میں ہزاروں گاڑیاں، لاکھوں چھوٹے ہتھیار، نائٹ وژن آلات اور 160 سے زائد طیارے شامل ہیں، طالبان کے قبضے میں چلا گیا۔
پہیہ جام ہڑتال نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ پاکستان کو ٹرانسپورٹ پالیسی کے حوالے سے مستقل، دیرپا اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت پر مبنی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اگر اس بار بھی دونوں فریق انا کے محاذ سے پیچھے نہ ہٹے تو نقصان صرف عوام کا ہوگا اور ایک بار پھر ریاستی کمزوری اور انتظامی بدنظمی پوری شدت سے سامنے آئے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ بھی ہم آہنگی کر رہا ہے تاکہ دستیاب علاقائی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے امن کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ان کے مطابق خطے کے متعدد ممالک بھی افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر فکر مند ہیں اور کسی مشترکہ حل کی تلاش جاری ہے۔
امریکی حکام نے گرین کارڈز کی ازسرِنو جانچ پڑتال کا آغاز کر دیا ہے جبکہ افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ بھی غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی گئی ہے
یہ معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کہ امریکہ میں گزشتہ برس ایک بل پیش کیا گیا تھا جس کا مقصد امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو طالبان تک پہنچنے سے روکنا تھا۔ اگرچہ یہ بل ایوانِ نمائندگان سے منظور ہوا تھا، مگر تاحال مکمل قانون نہیں بن سکا۔
حکام اور ماہرین کے مطابق یہ ویڈیو بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر طالبان اور عالمی جہادی نیٹ ورکس کے گہرے روابط پر سوالات اُٹھا سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی برادری طالبان سے دہشت گرد گروہوں سے لاتعلقی کے عملی ثبوت کا تقاضا کر رہی ہے۔
ڈی ڈبلیو کی رپوٹس کے مطابق افغانستان میں ضروری ادویات کی شدید قلت ہے، بازاروں میں کھلے عام جعلی ادویات فروخت کی جارہی ہیں تاہم طالبان حکومت نے ان رپورٹس کی تردید کردی ہے
برطانوی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا کہ حکومت انکوائری تعاون جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ اہم ہے کہ انکوائری مکمل ہونے تک مزید تبصرے سے گریز کیا جائے۔ ترجمان نے مسلح افواج کے احتساب اور شفافیت کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
روسی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ایران کے نئے میزائل امریکی دفاعی نظام کو چکما دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے پینٹاگون تشویش میں مبتلا ہے۔ یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا جب اردن میں ایرانی حملے میں 2 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر امریکی فوج نے ایران پر مسلسل آٹھویں رات بھی شدید فضائی حملے کیے ہیں، جس میں آبنائے ہرمز کے قریبی علاقوں اور ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا ایران پر مزید حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور اسرائیل کو درجنوں اضافی ایندھن فراہم کرنے والے طیارے بھیجنے پر غور کر رہا ہے، تاہم ابھی نئے حملوں کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
انڈیا کا مشن چاند اب ایک نئے امتحان سے دوچار ہے کیونکہ بھارتی خلائی ادارہ آئی ایس آر او کے سائنسدان چھوڑ رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں 100 سے 120 سائنسدان آئی ایس آر او چھوڑ چکے ہیں، جس کے بعد حکومت نے استعفوں کی منظوری کا طریقہ مزید سخت کر دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے عہدیدار الیگزینڈر زویف نے کہا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی اور طالبان سے روابط اب بھی برقرار ہیں۔ داعش خراسان اور تحریک طالبان پاکستان بھی افغانستان سے سرگرم اہم دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہیں۔