خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔
جنگ جنگ ہوتی ہے جناب اور اس کے کچھ منطقی اثرات ہوتے ہیں۔ جنہیں جنگوں کا بہت شوق ہو اور امن کی کوششیں جنہیں اچھی نہ لگیں، انہیں مہنگے پٹرول پر تنقید نہیں، ابرار الحق صاحب کی سربراہی میں رقص کرنا چاہیے۔
امریکہ نے بحری ناکہ بندی سے ایران کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے جہاں مذاکرات کی ناکامی پر محدود حملوں کا آپشن بھی موجود ہے۔ ایران کے پاس اب دو ہی راستے ہیں: یا امریکی خواہش پر معاہدہ یا پھر "مارو اور مر جاؤ" کی پالیسی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ اسلام آباد؛ پاکستان کی ثالثی میں علاقائی امن کی بحالی پر مشاورت، تاہم امریکہ سے کسی بھی ملاقات کی تردید کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق عباس عراقچی اسلام آباد میں پاکستانی مصالحتی ٹیم سے اہم ملاقاتیں کریں گے، جس کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان 'اسلام آباد امن مذاکرات' کا دوسرا راؤنڈ شروع ہونے کے قوی امکانات ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں مزید 3 ہفتوں کی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے اسے خطے میں پائیدار امن کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ایک نئے دور کا آغاز رواں ہفتے جمعہ تک ممکن ہے، جس سے خطے میں تناؤ کی کمی کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
کُچھ دیر قبل ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’وہ ذاتی حیثیت میں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شکر گزار ہیں کہ جنھوں نے سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کے لیے جنگ بندی میں توسیع کی پاکستانی درخواست کو قبول کیا ہے۔‘
دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ ہو یا معاشی محاذ پر درپیش چیلنجز، اس قوم نے فقر کی اسی سان پر اپنی خودی کو چمکایا جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔ آج ہم دنیا میں امن کے ضامن بھی ہیں اور وقت پڑنے پر بنیانِ مرصوص بھی۔
آج اقبالؒ کی روح کو تسکین ہو رہی ہوگی کہ جس پودے کی آبیاری انہوں نے اپنے فکر و فلسفے سے کی تھی، وہ اب ایک تناور درخت بن کر دنیا کو سایہ فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان کا یہ نیا روپ اس بات کی نوید ہے کہ اب سورج طلوع ہو چکا ہے، اور اندھیرے اب مستقل طور پر چھٹنے والے ہیں۔
ٹرمپ نے مذاکراتی عمل کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ہم بات چیت کرنے جا رہے ہیں، اور اس مرحلے پر کوئی کھیل نہیں ہو رہا۔” انہوں نے شکوک و شبہات کو مسترد کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھیں گے۔