Category: تازہ ترین

اقوام متحدہ کی 38ویں رپورٹ نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں اور 2 ہزار جنگجوؤں کی موجودگی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت 6 ماہ کے لیے فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔

اورکزئی میں امن کمیٹی کی کارروائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا گھیراؤ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی، عمران خان کی فوری ہسپتال منتقلی کا بھی مطالبہ۔

زیک گولڈ اسمتھ کا برطانوی حکومت کو خط عمران خان کی حمایت میں عالمی اور اسرائیلی لابی کے متحرک ہونے کا کھلا ثبوت ہے۔

مولانا فضل الرحمن کا متحدہ اپوزیشن کا اعلان عوامی مسائل سے زیادہ اپنی سیاسی اہمیت بچانے کی کوشش ہے۔

صدر ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان طویل ٹیلیفونک رابطے میں یوکرین اور ایران پر مشاورت؛ ٹرمپ کا نیتن یاہو کو لبنان کے خلاف مکمل جنگ سے گریز کا مشورہ۔

آپریشن غضب للحق کے تحت پاک افغان سرحد پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی جارحیت کا بھرپور جواب؛ چمن سیکٹر میں متعدد چوکیاں اور عسکری گاڑیاں تباہ، دشمن پسپا۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کی آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تشویش؛ برادر ممالک کی خودمختاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ۔

بی ایل اے کے خلاف حالیہ کاروائیاں آپریشن غضب للحق کا تسلسل ہیں؛ سکیورٹی ماہرین نے 'نئے محاذ' اور پراکسیز کی تشکیل سے متعلق تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دورہ اسلام آباد کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ایران امریکہ مذاکرات کی بحالی کے لیے مثبت مشاورت ہوئی ہے۔

یونیورسٹی آف لاہور کی تحقیقاتی رپورٹ نے افغان انٹیلی جنس کے زیرِ سایہ فعال ’المرصاد‘ نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے، جو مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے تزویراتی استعمال سے پاکستان کی نظریاتی اساس اور سفارتی کششوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

جنگ جنگ ہوتی ہے جناب اور اس کے کچھ منطقی اثرات ہوتے ہیں۔ جنہیں جنگوں کا بہت شوق ہو اور امن کی کوششیں جنہیں اچھی نہ لگیں، انہیں مہنگے پٹرول پر تنقید نہیں، ابرار الحق صاحب کی سربراہی میں رقص کرنا چاہیے۔

امریکہ نے بحری ناکہ بندی سے ایران کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے جہاں مذاکرات کی ناکامی پر محدود حملوں کا آپشن بھی موجود ہے۔ ایران کے پاس اب دو ہی راستے ہیں: یا امریکی خواہش پر معاہدہ یا پھر "مارو اور مر جاؤ" کی پالیسی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ اسلام آباد؛ پاکستان کی ثالثی میں علاقائی امن کی بحالی پر مشاورت، تاہم امریکہ سے کسی بھی ملاقات کی تردید کر دی گئی۔

ذرائع کے مطابق عباس عراقچی اسلام آباد میں پاکستانی مصالحتی ٹیم سے اہم ملاقاتیں کریں گے، جس کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان 'اسلام آباد امن مذاکرات' کا دوسرا راؤنڈ شروع ہونے کے قوی امکانات ہیں۔