کسی بھی جمہوری معاشرے میں احتجاج کا حق بنیادی ہے، لیکن اس کی ایک قیمت ہوتی ہے جو ہمیشہ معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ ادا کرتا ہے۔ شٹر ڈاؤن اور ہڑتالوں سے کسی وزیر یا اشرافیہ کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ اس کی زد میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور، چھوٹا تاجر، تعلیمی اداروں سے دور ہوتا طالب علم اور ہسپتال پہنچنے کی کوشش میں بے بس مریض آتا ہے۔
ملک میں دہشت گردی کے سنگین چیلنجز کے باوجود تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی حکمتِ عملی کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں اہم اجلاس طلب کر لیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دورہ اسلام آباد کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ایران امریکہ مذاکرات کی بحالی کے لیے مثبت مشاورت ہوئی ہے۔
یونیورسٹی آف لاہور کی تحقیقاتی رپورٹ نے افغان انٹیلی جنس کے زیرِ سایہ فعال ’المرصاد‘ نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے، جو مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے تزویراتی استعمال سے پاکستان کی نظریاتی اساس اور سفارتی کششوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
جنگ جنگ ہوتی ہے جناب اور اس کے کچھ منطقی اثرات ہوتے ہیں۔ جنہیں جنگوں کا بہت شوق ہو اور امن کی کوششیں جنہیں اچھی نہ لگیں، انہیں مہنگے پٹرول پر تنقید نہیں، ابرار الحق صاحب کی سربراہی میں رقص کرنا چاہیے۔
امریکہ نے بحری ناکہ بندی سے ایران کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے جہاں مذاکرات کی ناکامی پر محدود حملوں کا آپشن بھی موجود ہے۔ ایران کے پاس اب دو ہی راستے ہیں: یا امریکی خواہش پر معاہدہ یا پھر "مارو اور مر جاؤ" کی پالیسی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ اسلام آباد؛ پاکستان کی ثالثی میں علاقائی امن کی بحالی پر مشاورت، تاہم امریکہ سے کسی بھی ملاقات کی تردید کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق عباس عراقچی اسلام آباد میں پاکستانی مصالحتی ٹیم سے اہم ملاقاتیں کریں گے، جس کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان 'اسلام آباد امن مذاکرات' کا دوسرا راؤنڈ شروع ہونے کے قوی امکانات ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں مزید 3 ہفتوں کی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے اسے خطے میں پائیدار امن کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ایک نئے دور کا آغاز رواں ہفتے جمعہ تک ممکن ہے، جس سے خطے میں تناؤ کی کمی کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
کُچھ دیر قبل ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’وہ ذاتی حیثیت میں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شکر گزار ہیں کہ جنھوں نے سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کے لیے جنگ بندی میں توسیع کی پاکستانی درخواست کو قبول کیا ہے۔‘
دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ ہو یا معاشی محاذ پر درپیش چیلنجز، اس قوم نے فقر کی اسی سان پر اپنی خودی کو چمکایا جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔ آج ہم دنیا میں امن کے ضامن بھی ہیں اور وقت پڑنے پر بنیانِ مرصوص بھی۔