اقوام متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دیے گئے حافظ گل بہادر گروپ سے منسلک افغان شہری کے بھارت میں طبی علاج نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور سفارتی تعلقات پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سوات میں پشاور سے آنے والی خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے الزام میں دو پولیس اہلکاروں کی گرفتاری نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ جب محافظ ہی خطرہ بن جائیں تو شہری بھروسا کس پر کریں۔
شاہراہِ دستور پر واقع ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کیس میں ریاست نے 14 ارب کے نادہندگان کے خلاف کاروائی کر کے واضح کیا کہ قانون اب اشرافیہ اور عام شہری کے لیے یکساں ہے۔
ان کا یہ دعویٰ کہ عمارت میں 48 سفارت کار رہ رہے تھے اور یورپی ممالک کی جانب سے کوئی ڈیمارش جاری کیا گیا، مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وہاں صرف 9 سفارت کار مقیم تھے۔
نگران ادارے کے مطابق، تعمیر کار پر چودہ ارب روپے سے زائد کا نادہندہ ہونے کا الزام ہے اور وہ اب تک ان واجبات کی ادائیگی میں ناکام رہا ہے۔ اس عمارت میں ملک کے طاقتور ترین افراد اور بااثر شخصیات رہائش پذیر ہیں۔
شاہراہ دستور کا یہ اسکینڈل پاکستان میں قانون کی بالادستی اور اشرافیہ کے قبضے کے خلاف ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ ریاست کی رٹ ہر صورت قائم کی جانی چاہیے۔ اگر ایک عام شہری کے لیے قانون سخت ہے، تو اشرافیہ بھی اس سے بالاتر نہیں ہو سکتی۔
فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں قانونی کارروائیوں کو 'خلاف ورزی' قرار دے کر حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ماہرین نے اسے غیر جانبدارانہ رپورٹ کے بجائے 'کلوزڈ سرکٹ نیریٹیو' قرار دے دیا۔
پاکستانی فورسز نے ژوب سیکٹر کے مدمقابل افغان سرحد کے اندر 32 مربع کلومیٹر پر مشتمل 'گڈوانہ انکلیو' کا کنٹرول حاصل کر لیا، آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ میجر جنرل عاطف مجتبیٰ کے دورے کی فوٹیج منظر عام پر آگئی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے گرینڈ حیات کیس میں بی این پی گروپ کی تمام درخواستیں خارج کر دیں، جس سے 14.5 ارب روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی پر سی ڈی اے کی جانب سے لیز کی منسوخی قانونی طور پر برقرار رہی ہے۔
یہ صورتحال خوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیے اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھنے میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ عوامی مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو دہشت گردی کے خلاف واضح پوزیشن اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ ان کا مبہم رویہ کمزور ذہنوں کو غلط پیغام دے رہا ہے۔
برطانیہ میں اظہر مشوانی کی قیادت میں مذہبی رہنما حافظ طاہر اشرفی اور ان کی فیملی کو ہراساں کرنے کے واقعے نے سیاسی غنڈہ گردی اور اخلاقی پستی کو بے نقاب کر دیا ہے۔
پی ٹی آئی کے انقلابی بیانیے اور تضادات پر مبنی خصوصی رپورٹ؛ تیرہ سالہ اقتدار کے باوجود کے پی میں تبدیلی کے آثار نہیں، جبکہ سوشل میڈیا تنقید کو 'بوٹس' قرار دینا عوامی غصے سے فرار کا راستہ ہے۔