Category: خیبر اور بلوچستان

اسلام آباد میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی میزبانی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور مشترکہ اعلامیہ تیار کر لیا گیا ہے۔

ہٹیاں بالا میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 8 اہم ارکان نے پریس کانفرنس کے دوران تنظیم سے مستقل لاتعلقی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

بلیدہ میں نجی اسکول پر حملے، توڑ پھوڑ اور فائرنگ کے خلاف مقامی آبادی نے شدید احتجاج کیا، فورسز کی آمد پر حملہ آور فرار ہو گئے۔

وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور صوبائی حکومت عوام کے بجائے خارجیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔

کے پی میں دہشتگردی اور منشیات کے مبینہ گٹھ جوڑ نے امن تباہ کر دیا۔ ایک دہائی سے اقتدار پر قابض پی ٹی آئی پولیس فورس کو جدید آلات دینے اور صوبے کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔

افغانستان بھر میں مسلح مزاحمت کا دائرہ پھیل گیا ہے، جہاں طالبان کے انٹیلی جنس اور سکیورٹی مراکز پر حملوں میں درجنوں اہلکار ہلاک ہو گئے۔

بلوچستان میں سی ٹی ڈی نے دہشت گردوں کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کوئٹہ اور بارکھان میں 14 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ کاروائی کے دوران زخمی ہونے والے تین اہلکاروں کی حالت خطرے سے باہر ہے

دوسری جانب بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے خیبرپختونخوا حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ احتجاج کی سیاست کے نام پر اپنے ہی صوبے کو بند کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “احتجاج_کی_سیاست کے تحت خود ہی صوبہ بند کر دینا مسائل کا حل نہیں، ایسے نہیں چلے گا۔”

یہ چیک پوسٹ مدرسہ سال 2010 سے سکیورٹی فورسز کے استعمال میں تھی۔ دھماکے کے بعد ماموند جانے والی مین شاہراہ مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے اور باجوڑ کی فضاء غم و اندوہ میں ڈوبی ہوئی ہے۔

خیبرپختونخوا کے علاقے کبل گرام میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن میں فتنہ الخوارج کے سرغنہ نور اسلام سمیت تین دہشت گرد ہلاک، جبکہ مقابلے میں پولیس کے تین جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا

ملاقات کے دوران شرکاء نے بھی خطے کی مجموعی صورتحال اور پاکستان کے کردار پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ سابق وزیرِ اعظم نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو قومی یکجہتی اور مثبت بیانیے کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔

بنوں میں تھانہ میریان کے سامنے ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ایک بچے سمیت دو افراد شہید جبکہ 16 زخمی ہو گئے ہیں، پولیس کی مزید نفری جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئی

پشاور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کے بانی رکن کی درخواست؛ سڑکوں اور موٹرویز سے تمام رکاوٹیں فوری ہٹانے اور راستے کھولنے کے لیے عبوری حکم جاری کرنے کی استدعا کر دی

پاسنگ آؤٹ پریڈ میں نوشکی میں شہید ہونے والے خطیب امشد علی کے والدِ محترم نواب خان کو بطور مہمانِ خصوصی مدعو کیا گیا۔ تقریب کے دوران شہید کی فیملی کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے عزم و حوصلے کو سراہا گیا۔

دہشت گردوں کے قبضے میں موجود کمپاؤنڈ، جو ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا، کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تاکہ مستقبل میں کسی بھی دہشت گردانہ سرگرمی کے لیے اس کا دوبارہ استعمال ممکن نہ ہو۔

واقعے کے بعد اہل خانہ نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ احتجاج کے دوران ہنگامی طبی صورتِ حال کے لیے راستہ یقینی بنانے کا مؤثر نظام وضع کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت رسائی مل جاتی تو شاید بچی کی جان بچائی جا سکتی تھی۔