پاکستان کی جانب سے کبھی بھی اس قسم کی کوئی ویزا درخواست جمع نہیں کرائی گئی۔ یہ افواہیں پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے جس میں افغان طالبان بھارتی ایما پر اس پروپیگندے کو پھیلا رہے ہیں
سفارتی حلقوں کا مؤقف یہ رہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات، باہمی احترام اور ذمہ دارانہ رویئے کی ضرورت ہے، جبکہ جارحانہ بیانات سے اجتناب لازمی سمجھا جائے گا۔
پاکستان نے افغان طالبان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے اور سرحد پار دراندازی میں مدد کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کردیا
اسی ہفتے پاکستان نے سرحدی راستے، بشمول ٹورخم اور چمن، بند کر دیے۔ یہ اقدام افغان فوج کے مبینہ فضائی حدود کی خلاف ورزیوں اور پختہ شدہ اشتعال کے ردِعمل میں کیا گیا۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ افغان علاقے سے ملنے والی سہولتوں نے ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کو آسان بنایا ہے۔
اس پس منظر میں پاکستان کا مؤقف ہے کہ اگر افغان انتظامیہ ان گروہوں کو اپنے علاقے سے کچلنے میں ناکام رہے تو پاکستان کو اپنی سرحدی حفاظت کے لیے لازم اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔
وفاقی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کیمپس کی ڈی نوٹیفکیشن کا مقصد صرف سکیورٹی نہیں بلکہ زمین کا بہتر انتظام، مقامی ترقیاتی منصوبوں کا آغاز اور غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ بھی ہے۔
افغان سرزمین پر موجود دہشتگرد گروہ تسلسل کے ساتھ پاکستان کے خلاف منظم کارروائیوں میں مصروفِ عمل ہیں۔ واضح رہے کہ ان دہشت گرد گروہوں کو افغانستان میں ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ مالی مدد حاصل ہے
پاکستان تحریک انصاف وفاقی سطح پر سیکیورٹی آپریشن کی حمایت کررہی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کی صوبائی قیادت خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی آپریشنز کی مخالفت کرتی ہے
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملے کی ذمہ داری تحفظِ امارتِ اسلامیہ نامی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے نئے دھڑے نے قبول کی ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں حالیہ جھڑپوں اور کشیدگی پر سعودی عرب کو گہری تشویش ہے۔
پاکستان بارہا شواہد کے ساتھ دنیا کے سامنے یہ موقف پیش کر چکا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر گروہ افغان سرزمین سے منظم حملے کرتے ہیں۔ اگر کابل واقعی اپنی سرزمین پر کنٹرول رکھتا ہے، تو پھر ان گروہوں کی محفوظ پناہ گاہیں کیوں برقرار ہیں؟
متقی نے کہا کہ بھارت نے افغانستان میں اپنے ترقیاتی منصوبوں کو دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جو منصوبے ادھورے رہ گئے تھے، انہیں مکمل کیا جائے گا اور جو شروع نہیں ہو سکے، ان پر دوبارہ کام کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے جاتی عمرہ میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات بھی کی، جس میں پاک۔افغان سرحدی کشیدگی اور دیگر ملکی امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے بعد دونوں ممالک میں آج تجارت مکمل طور پر معطل ہے۔ طورخم، خرلاچی، انگور اڈہ اور غلام خان سمیت تمام راستے تجارت اور آمد و رفت کیلئے مکمل طور پر بند ہیں۔
پاکستانی عہدیدار نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کا ریکارڈ واضح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "پاکستان نے دہشت گردی کے تمام مظاہر کا مقابلہ کیا ہے، جبکہ طالبان خود دہشت گرد گروہوں کو پناہ دیتے رہے ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر داعش کے ٹھکانوں کو نظر انداز کر رہا ہے، جہاں سے افغانستان اور دیگر ممالک میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔
زلمے خلیل زاد نے دوحہ معاہدے کے ذریعے افغانستان کو طالبان کے حوالے کیا۔ یہ وہ معاہدہ تھا جس نے نہ صرف افغان حکومت کو کمزور کیا بلکہ ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دیا۔
طالبان وفد نے نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو داخل ہونے سے روک دیا، جو نہ صرف بھارتی آئین کی روح کے منافی تھا بلکہ مودی حکومت کے لیے شدید سبکی کا باعث بھی بنا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کا مؤقف آج بھی مسلم دنیا میں سب سے زیادہ اصولی ہے — یعنی 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ایک خودمختار، قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
وزارت نے بین الاقوامی برادری، علاقائی ممالک اور متعلقہ عالمی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس واقعے کو مانیٹر کریں اور اس کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں تاکہ ذمہ داران کو قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔
سعد رضوی نے کہا کہ ’’ہم جامع مسجد رحمت العالمین سے امریکی ایمبیسی اسلام آباد تک لانگ مارچ کریں گے۔ سب سے آگے میں خود چلوں گا، پھر میری شوریٰ اور پھر میرے کارکن۔‘‘
سینٹر مشتاق احمد نے جماعت اسلامی سے علیحدہ ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند سالوں سے ایسے حالات بن گئے تھے کہ جماعت اسلامی کے ساتھ چلنا مشکل ہوگیا تھا
انہوں نے مزید کہا کہ ’’امریکی قبضے کے دوران اتار چڑھاؤ کے باوجود طالبان نے کبھی بھارت کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا اور ہمیشہ بہتر تعلقات کے خواہاں رہے۔‘‘
یاد رہے کہ پاکستان نے رواں سال مئی میں طالبان حکومت کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو اپ گریڈ کیا تھا، جس کے بعد بھارت کا یہ اقدام جنوبی ایشیا میں نئی سفارتی صف بندی کی نشاندہی کرتا ہے۔
پڑوسی مُلک سے پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیاں کی جارہی ہیں جنہیں روکنے کے لیے ریاستِ پاکستان نے بارہا مرتبہ کوششیں کیں لیکن طالبان حکومت کی جانب سے سنجیدگی نظر نہ آئی
نوبل امن انعام کا مقصد اگر واقعی عالمی امن ہے، تو اس میں غیر جانب داری اور حقائق پر مبنی فیصلے ناگزیر ہیں۔ بصورتِ دیگر، یہ ایوارڈ امن نہیں بلکہ طاقت کی سیاست کا ایک آلہ بن کر رہ جائے گا — جہاں ’’امن‘‘ کی تعریف بھی طاقتور طے کرتے ہیں۔
مذہبی علما کو نظامِ شریعت کے محافظ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ مجاہدین اور سرکاری عہدیداران کو علما سے مشاورت کرنی چاہیے اور ان کے فتووں اور رہنمائی پر عمل کرنا لازم ہے۔
بھارتیوں کیلئے ویزوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے کا حصہ نہیں ہے، یہ دورہ آزاد تجارتی معاہدے سے فائدہ اٹھانے کیلئےہے جو ہم پہلے ہی طے کر چکے ہیں۔
سلامتی کونسل کی 35ویں مانیٹرنگ رپورٹ کے مطابق داعش کے مراکز دراصل افغانستان کے صوبوں ننگرہار، کنڑ، نورستان اور کابل میں موجود ہیں، جہاں ان کے تقریباً دو ہزار جنگجو سرگرم ہیں۔
تاریخی طور پر بھارت اور افغانستان کے درمیان دوستانہ تعلقات رہے ہیں، لیکن 2021 میں امریکا کے افغانستان سے انخلا اور طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد نئی دہلی نے کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا۔
علی امین گنڈا پوروزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے عہدے سے مستعفی ہوگئے ،سہیل آفریدی کو نیا وزیر اعلیٰ نامزد کردیا گیا،سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے بھی تصدیق کردی۔
افغان وزیر خارجہ امیر متقی کا کہنا تھا روسی حکومت کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے پہلی بار امارتِ اسلامیہ افغانستان کو ماسکو فارمیٹ کے رکن کے طور پر مدعو کیا
وزارت صحت غزہ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد دولاکھ کے قریب ہے
ایک ممتاز مغربی اخبار نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کسی نئی بندرگاہ کی پیشکش کر رہا ہے، اور اس تناظر میں امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کی تشویش کا بھی حوالہ دیا گیا۔ تاہم، یہ خبر متعدد حوالوں سے غلط فہمی، قیاس آرائی اور غیر مصدقہ بیانیے پر مبنی ہے۔
یو این ایچ سی آر نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس ہفتے میں آٹھ ہزار سے زائد افغان شہریوں کے پاکستان نے بےدخل کیا ہے جن میں ایک بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے
صدر آصف زرداری نے دورہ چین کے دوران صوبہ حنان کی قیادت سے ملاقات میں زرعی ٹیکنالوجی میں تعاون پر زور دیا اور چینی حکام کو سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ پر دورہ پاکستان کی دعوت دی۔
چمن اور سپین بولدک کے مقامات پر پاک افغان فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں میں 4 پاکستانی اہلکار شہید جبکہ 6 افغان اہلکار ہلاک ہو گئے؛ رات بھر جاری رہنے والی فائرنگ کے بعد سرحد پر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔
نیشنل پریس کلب کے اراکین نے صدر اور انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ مطیع اللہ جان کی جانب سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے پر ان کی کلب کی رکنیت فی الفور منسوخ کی جائے اور انہیں پریس کلب سے بے دخل کیا جائے۔
اس واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے مختلف مکاتبِ فکر اور اتحاد المدارس العربیہ پاکستان نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلاف ہر کسی کا حق ہے، لیکن کسی کی عزت، خاندان اور سلامتی پر حملہ کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
پی ایس ایل 11 کا آغاز مارچ میں علاقائی کشیدگی اور ایندھن کے بحران کے باعث حکومتی “کفایت شعاری پالیسی” کے تحت ہوا تھا، جس کی وجہ سے تمام میچز کراچی اور لاہور کے خالی اسٹیڈیمز میں کھیلے گئے۔
عباس عراقچی نے پاکستان کی جانب سے خطے میں قیامِ امن کے لیے کی جانے والی مخلصانہ کوششوں کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک قابلِ عمل فریم ورک پیش کر دیا ہے اور اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ سفارت کاری کے حوالے سے کتنا سنجیدہ ہے۔
اس اقدام کا مقصد ایران کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے متبادل اور محفوظ روٹس فراہم کرنا ہے، جس سے نہ صرف دوطرفہ تجارت بلکہ علاقائی معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔
یہ تاثر سراسر غلط ہے کہ پاکستان کسی ایک فریق یا امریکہ کے دباؤ میں کام کرتا ہے؛ بلکہ پاکستان کی تمام تر کوششیں خالصتاً خطے میں استحکام اور مسلم امہ کے درمیان اتحاد کے فروغ کے لیے رہی ہیں۔