فتنۃ الخوارج کے دہشتگردوں نے سوئی نادرن گیس پائپ لائن کی ٹیم اور ایف سی پی این آئی کے اہلکاروں پر حملہ کر دیا۔ دہشت گردوں کے اس حملے میں 5 سیکیورٹی اہلکار جامِ شہادت نوش کرگئے
برسوں سے پھیلائے گئے افغانستان کے "ناقابلِ شکست" ہونے کے تاثر کو اب زمینی حقائق نے بے نقاب کر دیا ہے۔ طاقت کے توازن کا محور اب محض نعروں میں نہیں بلکہ عملی فیصلوں میں منتقل ہو چکا ہے۔
حیران کن طور پر، جب چند ماہ قبل باجوڑ کے کوثر لاچی کرکٹ گراؤنڈ پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک دہشت گردوں کے حملے میں پاکستانی کرکٹر جاں بحق ہوا، تب آئی سی سی نے نہ کوئی بیان دیا اور نہ افسوس کا اظہار کیا۔
زلمے خلیل زاد کا بیان دراصل ان کی دیرینہ پاکستان دشمنی اور ذاتی تعصب کا مظہر ہے۔ پاکستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیل زاد کا حالیہ بیان ذاتی انتقام اور تعصب سے لبریز ہے، جو ایک بار پھر ان کے ’’منتخب غصے‘‘ اور منافقت کو ظاہر کرتا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ"دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ایک دوسرے کے خلاف کسی قسم کی جارحانہ کارروائی نہیں کریں گے، نہ ہی ایسے گروہوں کی حمایت کریں گے جو پاکستان کے خلاف حملے کرتے ہیں۔"
ایچ ٹی این کے افغانستان نمائندے کی خصوصی اطلاع کے مطابق، پکتیکا میں ڈرون اسٹرائیکز میں کم ازکم 75 خوارج ہلاک ہوئے جن میں گل بہادر گروپ کے آٹھ سینئیر کمانڈرز بھی شامل ہیں۔
اگر افغان حکومت نے مخلصانہ رویہ اختیار نہ کیا تو جنوبی ایشیا ایک نئی غیر اعلانیہ جنگ کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے اور پاکستان اس بار دفاع نہیں، فیصلہ کرنے کے موڈ میں ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ 16 اکتوبر 2025 تک پاکستان میں مقیم 14 لاکھ 77 ہزار 592 افغان شہریوں کی وطن واپسی مکمل کی جا چکی ہے۔ یہ عمل مرحلہ وار جاری ہے اور کسی بھی غیر قانونی افغان باشندے کو مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔
دفتر خارجہ کے مطابق طاہر حسین اندرابی بین الاقوامی سلامتی کے شعبے میں بطور اضافی سیکرٹری کے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اور ساتھ ساتھ پاکستان نیشنل اتھارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا مذاکرات کا سلسلہ دو دن تک جاری رہا اور رات 2 بجے تک حکومتی وفد تحریک لبیک کے رہنماؤں سے مذاکرات کرتا رہا
پاک افغان عارضی جنگ بندی کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے دہشتگردوں نے سرحد پار کرنے کی کوشش کی، جسے پاک فوج نے ناکام بناتے ہوئے 50 کے قریب دہشت گردوں کو ہلاک کردیا
ترجمان کے مطابق، کارروائیوں کے بعد علاقوں کی کلیئرنس کے لیے سرچ اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی بھارتی حمایت یافتہ خارجی کو چھپنے کا موقع نہ مل سکے۔
بلوچستان کے مختلف شہروں میں عوامی ریلیوں، مظاہروں اور دعائیہ اجتماعات کا انعقاد کیا گیا، جن میں شہریوں نے پاک فوج کے حق میں نعرے لگائے اور افغان طالبان کے حملوں کی شدید مذمت کی۔
دو روزہ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ مملکت کے ترجمان مرتضی سولنگی کا کہنا تھا اس مہلک بیماری کو ختم کرنے کے لیے ہمیں جلد از جلد اقدامات کرنے ہونگے
بند کمروں میں ہر کوئی چھوٹی چھوٹی خوشامد کر لیتا ہے، پبلک فورم پر نپے تلے انداز میں سپاس نامے پیش کیے جاتے ہیں لیکن فنکار کا اصلی امتحان اُسی وقت ہوتا ہے جب سٹیج بڑا ہو اور سُر سنگیت کو سمجھنے والے سامنے بیھٹے ہوں۔
پاکستان کی جانب سے کبھی بھی اس قسم کی کوئی ویزا درخواست جمع نہیں کرائی گئی۔ یہ افواہیں پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے جس میں افغان طالبان بھارتی ایما پر اس پروپیگندے کو پھیلا رہے ہیں
سفارتی حلقوں کا مؤقف یہ رہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات، باہمی احترام اور ذمہ دارانہ رویئے کی ضرورت ہے، جبکہ جارحانہ بیانات سے اجتناب لازمی سمجھا جائے گا۔
پاکستان نے افغان طالبان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے اور سرحد پار دراندازی میں مدد کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کردیا
اسی ہفتے پاکستان نے سرحدی راستے، بشمول ٹورخم اور چمن، بند کر دیے۔ یہ اقدام افغان فوج کے مبینہ فضائی حدود کی خلاف ورزیوں اور پختہ شدہ اشتعال کے ردِعمل میں کیا گیا۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ افغان علاقے سے ملنے والی سہولتوں نے ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کو آسان بنایا ہے۔
اس پس منظر میں پاکستان کا مؤقف ہے کہ اگر افغان انتظامیہ ان گروہوں کو اپنے علاقے سے کچلنے میں ناکام رہے تو پاکستان کو اپنی سرحدی حفاظت کے لیے لازم اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔
وفاقی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کیمپس کی ڈی نوٹیفکیشن کا مقصد صرف سکیورٹی نہیں بلکہ زمین کا بہتر انتظام، مقامی ترقیاتی منصوبوں کا آغاز اور غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ بھی ہے۔
افغان سرزمین پر موجود دہشتگرد گروہ تسلسل کے ساتھ پاکستان کے خلاف منظم کارروائیوں میں مصروفِ عمل ہیں۔ واضح رہے کہ ان دہشت گرد گروہوں کو افغانستان میں ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ مالی مدد حاصل ہے
پاکستان تحریک انصاف وفاقی سطح پر سیکیورٹی آپریشن کی حمایت کررہی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کی صوبائی قیادت خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی آپریشنز کی مخالفت کرتی ہے
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملے کی ذمہ داری تحفظِ امارتِ اسلامیہ نامی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے نئے دھڑے نے قبول کی ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں حالیہ جھڑپوں اور کشیدگی پر سعودی عرب کو گہری تشویش ہے۔
پاکستان بارہا شواہد کے ساتھ دنیا کے سامنے یہ موقف پیش کر چکا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر گروہ افغان سرزمین سے منظم حملے کرتے ہیں۔ اگر کابل واقعی اپنی سرزمین پر کنٹرول رکھتا ہے، تو پھر ان گروہوں کی محفوظ پناہ گاہیں کیوں برقرار ہیں؟
متقی نے کہا کہ بھارت نے افغانستان میں اپنے ترقیاتی منصوبوں کو دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جو منصوبے ادھورے رہ گئے تھے، انہیں مکمل کیا جائے گا اور جو شروع نہیں ہو سکے، ان پر دوبارہ کام کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے جاتی عمرہ میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات بھی کی، جس میں پاک۔افغان سرحدی کشیدگی اور دیگر ملکی امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے بعد دونوں ممالک میں آج تجارت مکمل طور پر معطل ہے۔ طورخم، خرلاچی، انگور اڈہ اور غلام خان سمیت تمام راستے تجارت اور آمد و رفت کیلئے مکمل طور پر بند ہیں۔
پاکستانی عہدیدار نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کا ریکارڈ واضح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "پاکستان نے دہشت گردی کے تمام مظاہر کا مقابلہ کیا ہے، جبکہ طالبان خود دہشت گرد گروہوں کو پناہ دیتے رہے ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر داعش کے ٹھکانوں کو نظر انداز کر رہا ہے، جہاں سے افغانستان اور دیگر ممالک میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔
زلمے خلیل زاد نے دوحہ معاہدے کے ذریعے افغانستان کو طالبان کے حوالے کیا۔ یہ وہ معاہدہ تھا جس نے نہ صرف افغان حکومت کو کمزور کیا بلکہ ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دیا۔
طالبان وفد نے نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو داخل ہونے سے روک دیا، جو نہ صرف بھارتی آئین کی روح کے منافی تھا بلکہ مودی حکومت کے لیے شدید سبکی کا باعث بھی بنا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کا مؤقف آج بھی مسلم دنیا میں سب سے زیادہ اصولی ہے — یعنی 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ایک خودمختار، قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
وزارت نے بین الاقوامی برادری، علاقائی ممالک اور متعلقہ عالمی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس واقعے کو مانیٹر کریں اور اس کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں تاکہ ذمہ داران کو قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔
سعد رضوی نے کہا کہ ’’ہم جامع مسجد رحمت العالمین سے امریکی ایمبیسی اسلام آباد تک لانگ مارچ کریں گے۔ سب سے آگے میں خود چلوں گا، پھر میری شوریٰ اور پھر میرے کارکن۔‘‘
سینٹر مشتاق احمد نے جماعت اسلامی سے علیحدہ ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند سالوں سے ایسے حالات بن گئے تھے کہ جماعت اسلامی کے ساتھ چلنا مشکل ہوگیا تھا
انہوں نے مزید کہا کہ ’’امریکی قبضے کے دوران اتار چڑھاؤ کے باوجود طالبان نے کبھی بھارت کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا اور ہمیشہ بہتر تعلقات کے خواہاں رہے۔‘‘
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ترکیہ کا اہم سرکاری دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی اور انہیں ترک مسلح افواج کے ممتاز عسکری اعزاز سے نوازا گیا ہے۔
طالبان کے وزیر زراعت عطا عمری نے نئی دہلی میں سلطان محمود غزنوی کی سومنات مہم کو غلطی قرار دے کر سیاسی مفادات کے لیے مسلم تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔
گوجرانوالہ کی سیشن کورٹ نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔
امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کرتے ہوئے خلیجی خطے میں ایران کے مختلف فوجی اہداف اور ساحلی تنصیبات پر شدید حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدہ نہ کیا گیا تو اگلے ہفتے ایران کے تمام بجلی گھر اور پل تباہ کر دیے جائیں گے۔
الغزالی یونیورسٹی کے چانسلر مفتی عبدالرحیم نے آئی ایس پی آر سمر کیمپ میں گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریاست کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا قومی مفاد کے منافی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے پاک فوج کے عام سپاہی کی تنخواہ سے متعلق متنازع بیان پر شہید کی والدہ، معروف صحافیوں اور وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے دفاع نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور خلیج تعاون کونسل نے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے بیلسٹک میزائل حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ریاض کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔